أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَمَّا الۡغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ۚ‏۞

ترجمہ:

اور رہا وہ لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے تو ہمیں یہ خطرہ تھا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور رہا وہ لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے تو ہمیں یہ خطرہ تھا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا تو ہم نے یہ چاہا کہ ان کا رب ان دونوں کو اس کے بدلہ میں اس سے اچھا بچہ عطا فرمائے جو پاکیزہ اور زیادہ رحم دل ہو۔ (الکھف :80-81)

لڑکے کو قتل کرنے کی توجیہ 

ایک قول یہ کہ وہ لڑکا بالغ تھا، وہ ڈاکے ڈالتا تھا اور برے کام کرتا تھا اور اس کے ماں باپ لوگوں سے اس کے شر کو دور کرتے رہتے تھے اور جو شخص اس لڑکے کی طرف برے کاموں کو منسوب کرتا تھا اس کی تکذیب کرتے رہتے تھے اور یہ ان کے فسق کا سبب تھا اور خطرہ یہ تھا کہ یہ فسق ان کے کفر تک پہنچ جائے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ نابالغ لڑکا تھا مگر اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ جب یہ بالغ ہوجائے گا تو اس میں یہ برائیاں پائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر کو یہ حکم دیا تھا کہ جس کے متعلق اس قسم کا غ لبہ ظن ہو اس کو قتل کردیا جائے اس کی ایک اور توجیہ یہ ہے کہ وہ لکڑا کافروں اور بدمعاشوں کے ساتھ وقت گزارتا تھا اور اس کے متعلق یہ غلبہ ظن تھا کہ وہ بھی ان کی طرح ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا کہ ایسے لڑکے کو قتل کردیا جائے۔

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس لڑکے کو حضتر خضر نے قتل کیا تھا اس پر کفر کی مہر لگا دی گئی تھی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3150 صحیح مسلم فضائل خضر رقم الحدیث :172، سنن ابو دائودرقم الحدیث، 4705 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6221

حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا ہم نے یہ ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اس لڑکے کے ماں باپ کو اس سے بہتر لڑکا عطا فرما دے گا جو پاکیزہ سیرت کا حامل ہوگا اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوگا۔ 

عطا نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ پھر ان کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کے بطن سے ستر نبی پیدا ہوئے۔ (زاد المسیرج ٥ ص 181، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1412 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 80