وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍؕ-یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ(۴۳)

اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ(موٹی تازی) کہ انہیں سات دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اوردوسری سات سوکھی (ف۱۱۷) اے درباریو میری خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آ تی ہو

(ف117)

جو ہری پر لپٹیں اور انہوں نے ہری کو سکھا دیا ۔

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۚ-وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ(۴۴)

بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ(۴۵)

اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا (ف۱۱۸) اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا (ف۱۱۹) میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو (ف۱۲۰)

(ف118)

یعنی ساقی ۔

(ف119)

کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس سے فرمایا تھا کہ اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا ، ساقی نے کہا کہ ۔

(ف120)

قید خانے میں وہاں تعبیرِ خواب کے ایک عالِم ہیں ، بس بادشاہ نے اس کو بھیج دیا وہ قید خانہ میں پہنچ کر حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرنے لگا ۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍۙ-لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ(۴۶)

اے یوسف اے صدیق ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی (ف۱۲۱) شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں (ف۱۲۲)

(ف121)

یہ خواب بادشاہ نے دیکھا ہے اور مُلک کے تمام عُلَماء و حُکماء اس کی تعبیر سے عاجز رہے ہیں ، حضرت اس کی تعبیر ارشاد فرمائیں ۔

(ف122)

خواب کی تعبیر سے اور آپ کے علم و فضل اور مرتبت و منزِلت کو جانیں اور آپ کو اس محنت سے رہا کر کے اپنے پاس بلائیں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے تعبیر دی اور ۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًاۚ-فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ(۴۷)

کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگاتار (ف۱۲۳) تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو (ف۱۲۴) مگر تھوڑا جتنا کھالو (ف۱۲۵)

(ف123)

اس زمانہ میں خوب پیداوار ہوگی ، سات موٹی گائیوں اور سات سبز بالوں سے اسی کی طرف اشارہ ہے ۔

(ف124)

تاکہ خراب نہ ہو اور آفات سے محفوظ رہے ۔

(ف125)

اس پر سے بھوسی اتار لو اور اسے صاف کر لو ، باقی کو ذخیرہ بنا کر محفوظ کر لو ۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ(۴۸)

پھر اس کے بعد سات کرّے(سخت تنگی والے) برس آئیں گے (ف۱۲۶) کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھا تھا (ف۱۲۷) مگر تھوڑا جو بچالو (ف۱۲۸)

(ف126)

جن کی طرف دبلی گائیوں اور سوکھی بالوں میں اشارہ ہے ۔

(ف127)

اور ذخیرہ کر لیا تھا ۔

(ف128)

بیج کے لئے تاکہ اس سے کاشت کرو ۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠(۴۹)

پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینہ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے (ف۱۲۹)

(ف129)

انگورکا اور تِل زیتون کے تیل نکالیں گے ، یہ سال کثیر الخیر ہوگا ، زمین سرسبز و شاداب ہوگی ، درخت خوب پھلیں گے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ تعبیر سن کر واپس ہوا اور بادشاہ کی خدمت میں جا کر تعبیر بیان کی ، بادشاہ کو یہ تعبیر بہت پسند آئی اور اسے یقین ہوا کہ جیسا حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا ہے ضرور ویسا ہی ہوگا ۔ بادشاہ کو شوق پیدا ہوا کہ اس خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی زبانِ مبارک سے سنے ۔