حدیث نمبر 278

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نابینا شخص حاضر ہوا عرض کیا یارسول اﷲ میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو مجھے مسجد تک لائے اس نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ انہیں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں حضور نے انہیں اجازت دے دی جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو بلایا اور فرمایا کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو عرض کیا ہاں فرمایا تو قبول کرو ۱؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی مؤذن کے بلاوے کو قبول کرو اور مسجد میں حاضر ہوجاؤ۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچے وہاں تک کہ لوگوں کو مسجد میں آنا بہت ضروری ہے ،وہ دور کے لوگ جہاں اذان نہ پہنچی ہو ان کے لیے بھی مسجد آنا بہت بہتر ہے مگر اتنی سختی نہیں،اس حدیث کا یہی مطلب ہے۔”لَاصَلوٰۃَ لِجَارِالْمَسْجِدِ اِلَّافِی الْمَسْجِد”۔دوسرے یہ کہ ہر بیماری عذر نہیں جو جماعت یا مسجد کی حاضری کو معاف کردے بلکہ وہ بیماری عذر ہے جس سے مسجد میں آنا ناممکن یا سخت مشکل ہوجائے،دیکھو نابینا ہیں بیمار ہیں مگر انہیں حاضری کا حکم ہوا،بعض روایات میں ہے کہ عتبان ابن مالک نابینا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نہ آنے کی اجازت دے دی یا تو ان کا گھر دور ہوگا جہاں اذان کی آواز نہ پہنچتی ہوگی یا ان کا راستہ اتنا خراب ہوگا کہ بغیر ساتھی کے مسجد نہ پہنچ سکیں اور ساتھی کوئی ہوگا نہیں، لہذا احادیث میں تعارض نہیں اذان کی آواز پہنچے سے مراد آج کل کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز نہیں یہ تو دو دو میل تک پہنچ جاتی ہے۔ بعض علماء نے ان احادیث کی بناء پر جماعت کو فرض عین مانا مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث ظنی ہے۔