أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَحَسِبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ يَّتَّخِذُوۡا عِبَادِىۡ مِنۡ دُوۡنِىۡۤ اَوۡلِيَآءَ‌ ؕ اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا جَهَـنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نُزُلًا‏۞

ترجمہ:

کیا کافروں کا یہ گمان ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا دوست بنالیں گے، بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا کافروں کا یہ گمان ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو دوست بنالیں گے بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے آپ کہیے کہ کیا ہم تم کو یہ خبر دیں کہ سب سے زیادہ نقصان دہ کام کن لوگوں کے ہیں یہ وہ لوگ جن کی تمام مساعی دنیا کی زندگی میں اکارت گئیں اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ نیک کام کر رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس سے ملاقات کے ساتھ کفر کیا سو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے ان کی سزا جہنم ہے کیونکہ انہوں نے میری آیتوں اور میرے رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا (الکھف :102-106)

جن لوگوں کے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا کافروں کا یہ گمان ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو دوست بنالیں گے۔ میرے بندوں سے مراد ہیں ملائکہ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیز، اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کیا ان کا یہ گمان ہے کہ یہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کار ساز بنالیں گی اور میری عبادت کے بجائے ان کی عبادت کریں گے اور میں ان کو کوئی سزا نہیں دوں گا، یا ان کا یہ عمل ان کو نفع دے گا۔ جو لوگ ملنے کے لئے آئیں ان کی خاطر تواضح کے لئے جو سامان تیار کیا جائے اور ان کو پیش کیا جائے اس کو نزول کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے کافروں کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار رکھا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہیے کہ کیا ہم تم کو یہ خبر دیں کہ سب سے زیادہ نقصان دہ کام کن لوگوں کے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی تمام مساعی دنیا کی زندگی میں اکارت گئیں اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ نیک کام کر رہے ہیں۔

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ بعض لوگ کسی کام کو اچھا سمجھ کر کرتے ہیں حالانکہ اس کی وجہ سے ان کے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ انسان کے اعمال کفر اور ارتداد کی وجہ سے ضائع ہوتے ہیں یا لوگوں کے دکھانے اور انہیں سنانے کے لئے عمل کرنے کی وجہ سے ان کے عمل ضائع ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں اس سے مراد کفر ہے۔

مصعب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کیا ہم تم کو یہ خبر دیں کہ سب سے زیادہ نقصان وہ کام کن لوگوں کے ہیں ؟ کیا اس آیت کا مصداق الحروریتہ (خوارج) ہیں ؟ کہا نہیں وہ یہود اور نصاریٰ ہیں۔ رب یہود تو انہوں نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی اور رہے نصاریٰ تو انہوں نے جنت کی تکفیر کی اور جنت کے متعلق کہا نہ اس میں کوئی کھانے کی کوئی چیز نہ پینے کی کوئی چیز ہوگی اور جہاں تک الحروریہ کا تعلق ہے تو وہ اس آیت کے مصداق ہیں۔

الذین ینفضون عھد اللہ من بعد میثاقہ (البقرہ :27) جو اللہ کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں۔ اور حضرت عسد ان کو فاسقین کہتے ہیں۔ صحیح البخاری رقم الحدیث :4728)

اور اس آیت سے ان کی زجر و توبیخ مراد ہے کہ جن کافروں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں کی عبادت کی ہے انہیں بتادیں کہ تمہاری کوشش رائیگاں گئی اور تمہاری آرزوئیں ناکام ہوگئیں سو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا اس سے کفار مکہ مراد ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا اس سے خوارج اہل حرواء مراد ہیں۔ مرہ نے کہا اس سے مراد گرجوں کے راہب ہیں۔ علامہ قرطبی نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ ان لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس سے ملاقات کے ساتھ کفر کیا سو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور خوارج اور گرجوں کے راہب وغیرہ پر یہ صادق نہیں آتا کہ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا، کیونکہ خوارج قرآن مجید کی آیتوں کو مانتے ہیں اور گرجوں کے راہب انجیل کو مانتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی ایک آیت کا انکار اس کی تمام آیتوں کے انکار کو مستلزم ہے۔ گرجوں کے راہب تو قرآن مجید کی کسی آیت کو مانتے ہی نہیں اور رہے خوارج تو وہ قرآن مجید کی ان آیتوں کو نہیں مانتے جن میں اللہ تعالیٰ نے صغائر اور کبائر کے مرتکب کی مغفرت کی تصریح کی ہے اور وہ شفاعت کی آیات کو بھی نہیں مانتے اور جن آیات میں مرتکب کبائر پر مومن کا اطلاق کیا گیا ہے وہ ان کو بھی نہیں مانتے۔

جن لوگوں کے اعمال کا وزن نہیں ہو گا 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن ایک بہت بڑا اور بہت موٹا شخص آئے گا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھرکے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا اور فرمایا تم یہ آیت پڑھو فلا نقیم لھم یوم القیامۃ و زنا (الکھف :105) اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4729، صحیح مسلم رقم الحدیث :2785)

اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال پر کوئی ثواب نہیں ملے گا اور قیامت کے دن میزان میں ان کی کسی نیکی کا وزن نہیں کیا جائے گا اور جس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی تو پھر وہ دوزخ میں ہوگا۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) نے کہا کہ کفار تہامہ پہاڑ جتنے بڑے بڑے اعمال لے کر آئیں گے لیکن ان کا وزن نہیں کیا جائے گا اور اس آیت کا معنی مجاز ایوں بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اعمال کا اس دن ہمارے نزدیک کوئی وزن نہیں ہوگا۔ یعنی ان کے اعمال کی کوئی قدر نہیں ہوگی۔

بسیارخوری کے دینی اور دنیوی نقصانات 

اس حدیث میں موٹے آدمی کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اس کی فقہ یہ ہے کہ جو شخص حرص اور تلذذ کی وجہ سے زیادہ کھاتا ہے قیامت کے دن اس کے نیک اعمال کا وزن نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ ضرورت سے زیادہ کھانا مکر وہ تحریمی ہے۔ زیادہ مرغن اور چکنی چیزیں کھانا، مٹھائیاں کھانا، ثقیل اور دیر ہضم چیزیں کھانا جیسے پر اٹھے، شیر مال، تافتان اور زردہ، بریانی وغیرہ، زیادہ گوشت کھانا جسم کو فربہ کرتا ہے اور معیاری وزن سے جس کا وزن زائد ہو وہ جلد یا بدیر شوگر، ہائی بلڈ پریشر، انجائنا اور جوڑوں کے درد وغیرہ میں مبتلا ہوجاتا ہے کوئی شخص اپنے جسم کا مالک نہیں ہے اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے جسم کو نقصان پہنچائے۔ اس لئے زیادہ چٹپٹی اور چٹخارے دار چیزیں زیادہ مقدار میں کھانا جائز نہیں ہے اس لئے احادیث میں زیادہ کھانے اور موٹے آدمی کی مذمت کی گی ہے۔

مشہور محدیث شیخ اسماعیل بن محمد المعجلونی المتوفی 1162 ھ لکھتے ہیں :

الکشاف، البغوی اور دیگر مفسرین نے لکھا ہے کہ علماء یہود میں میں سے مالک بن صیف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تورات کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا ہے کیا تم نے تورات میں یہ پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ موٹے عالم سے بغض رکھتا ہے اور وہ موٹا آدمی تھا سو وہ غضب ناک ہوگیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی۔

بشر اعوار بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب نے فرمایا تم زیادہ مقدار میں کھانے اور پینے سے احتراز کرو کیونکہ بسیار خوری جسم کو فاسد کرتی ہے اور بزدلی پیدا کرتی ہے اس سے نماز میں ستی پیدا ہوتی ہے اور تم کھانے پینے میں درمیان روی کو لازم کرلو کیونکہ اس سے جسم کی زیادہ اصلاح ہوگی اور اس سے تم اسراف سے بچو گے، اور بیشک اللہ موٹے عالم سے بغض رکھتا ہے۔ حضرت ابوامامہ باہلی (رض) نے اس حدیث میں کو مرفوعاً روایت کیا ہے۔

امام احمد، حاکم اور امام بیہقی نے سند جید کے ساتھ حضرت جعدہ الجشمی سے روایت کیا ہے کہ نبنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موٹے آدمی کی طرف دیکھا تو اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اگر یہ (کھانا) اس (پیٹ) کے علاوہ کسی اور چیز میں ہوتا تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر تھا۔ (حافظ زین نے لکھا ہے اس حدیث کی سند صحیح ہے، مسند احمد رقم الحدیث :15813، دارالحدیث قاہرہ، مسند احمد رقم الحدیث 15963، عالم الکتب بیروت، مسند حمد ج ٣ ص 471 قدیم، مسند الطیالسی رقم الحدیث، 1235) (کشف الغطاء ج ٢ ص 248، رقم الحدیث :761، مطبوعہ مکتبتہ الغزالی دمشق)

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے قرن (زمانہ یا صدی) میں ہیں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہیں۔ عمران نے کہا مجھے پتا نہیں آپ نے اپنے بعد وہ قرن ذکر فرمائے یا تین، پھ رتمہارے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو شہادت دے گی تو اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی وہ خیانت کرے گی اس کو امین نہیں سمجھا جائے گا وہ نذر مانیں گے اور نذر کو پورا نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3650 صحیح مسلم رقم الحدیث :2535، سنن الترمذی رقم الحدیث :2222، سنن النسائی رقم الحدیث :3809)

اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص زیادہ کھا پی کر موٹا ہوجاتا ہے وہ عیش پرست اور آرام طلب ہوجاتا ہے، پھر وہ اپنی خواہشات اور اپنے نفس کی بندگی کرتا ہے اللہ کی بندگی نہیں کرتا اور جس شخص کا یہ حال ہو وہ بالعموم مال حرام کھانے سے بھی گریز نہیں کرتا، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو گوشت مال حرام سے پیدا ہو دوزخ کی آگ اس کے زیادہ لائق ہے، اور اللہ تعالیٰ نے زیادہ کھانے کی وجہ سے کفار کی مذمت کی ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

(محمد :12) اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ (دنیا کا) فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اس طرح کھا رہے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہے۔

اور جب مومن کافروں کے ساتھ مشابہ ہوگا اور تمام اوقات اور احوال میں ان کی طرح دنیا سے لذت اندوز ہوگا تو پھر اس میں حقیقت ایمان کہاں رہے گی اور اسلام کے احکام پر عمل کب ہوگا اور جو شخص بسیار خور ہو اس کی حرص بڑھ جاتی ہے اس پر سستی، کاہلی اور نیند کا غلبہ رہتا ہے اس کا دن چرنے میں اور رات سونے میں گزرتی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص بہت زیادہ کھانا کھاتا تھا پھر وہ مسلمان ہوگیا تو وہ بہت کم کھانا کھانے لگا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5397، صحیح مسلم رقم الحدیث :2062، سنن الترمذی رقم الحدیث :1819، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3258، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :6893)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک شخص نے ڈکار لی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی ڈکار کو ہم سے دور رکھو کیونکہ جو لوگ دنیا میں زیادہ سیر ہوں گے وہ قیامت کے دن زیادہ بھوکے ہوں گے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2478، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3350، المعجم الاوسط رقم الحدیث :4121 المسند الجامع رقم الحدیث :8246)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 102