أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا‏ ۞

ترجمہ:

جب اس نے اپنے رب کو چپکے سے پکارا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب اس نے اپنے رب کو چپکے سے پکارا (مریم :3)

ذکر خفی کی فضیلت 

حضرت زکریا نے آہستگی سے اور چپکے چپکے دعا کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند آواز سے اور چپکے چپکے دعا کرنا دونوں برابر ہیں اور چپکے چپکے دعا کرنا اس لئے اولیٰ ہے کہ اس میں زیادہ اخلاص ہے اور یہ ریا سے دور ہے۔

ذکر خفی کی فضیلت میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہے تھے۔ لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنے لگے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرماا، اے لوگو ! اپنے اوپر نرمی کرو، تم کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو تم سمیع اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ (الحدیث) (صحیح البخاری رقم الحدیث :6409 صحیح مسلم رقم الحدیث، 2704، سنن ابودائود رقم الحدیث :1526، سنن الترمذی رقم الحدیث :3472) 

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین ذکر وہ ہے جو آہستہہو اور بہترین رزق وہ ہے جو بہ قدر کفایت ہو۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث :809، مصنف ابن ابی شیبہ ج 10 ص 375، مسند احمد ج ۃ ص 178، مسند ابویعلی رقم الحدیث :731، کتاب الدعاء للطبرانی رقم الحدیث :1883، شعب الایمان ج ١ ص 330)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آہستگی کے ساتھ دعا کرتا ستر (٧٠) با آواز دعائوں کے برابر ہے۔ (کتاب الفردوس رقم الحدیث 2869، الجامع الصغیر رقم الحدیث 4206، کنز العمال رقم الحدیث 3196)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں جو نماز مسواک کے ساتھ پڑھی جائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو اس نماز پر ستر (٧٠) درجہ فضیلت دیتے تھے جو بغیر مسواک کے پڑھی جائے اور آپ فرماتے تھے جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مخلوقات کو ان کے حساب کے لئے جمع فرمائے گا اور فرشتے ان اعمال کو لے کر آئیں جن کو انہوں نے لکھ کر محفوظ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا دیکھو کوئی چیز رہ تو نہیں گئی ؟ فرشتے کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے ایسی کوئی چیز نہی چھوڑی جس کا ہمیں علم ہو اور جس کی ہم نے حفاظت کی ہو ہم نے ہر چیز کا احاطہ کرلیا ہے اور اس کو لکھ لیا ہے۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا بیشک ہمارے پاس ایک چیز چھپی ہوئی ہے جس کو تم نہیں جانتے اور اس کی میں خود جزا دوں گا اور وہ ذکر خفی ہے۔ (اتحاف السادۃ الھرۃ بزوائد المسانید العشرۃ رقم الحدیث :6809، المطالب العالیہ رقم الحدیث :3421، مسند ابویعلی رقم الحدیث، 4738، مجمع الزوائد ج 10 ص 81 المقصد العلی رقم الحدیث :1630)

حضرت زکریا کے نداء خفی کرنے کی وجوہ 

حضرت زکریا نے آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے بیٹے کے طلب کی اس لئے دعا کی کہ ان کی اس پر مذمت نہ کی جائے کہ وہ بڑھاپے میں اولاد کے حصول کی دعا کر رہے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس دعا کو اپنے ان رشتہ داروں سے مخفی رکھا جن سے ان کو خطرہ تھا، تیسری وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی آواز ہلکی اور پست تھی۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نداء تو بلند آواز سے کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے انہوں نے نداء خفی کی، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا قصد بلند آواز سے دعا کرنے کا تھا لیکن ان کے بڑھاپے کی وجہ سے ان کے منہ سے پست آواز نکلی لہٰذا نداء کے خفی ہونے کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نماز میں دعا کی تھی اور نماز میں پست آواز کے ساتھ دعا کی جاتی ہے اور اس پر دلیل کہ انہوں نے نماز میں یہ دعا کی تھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے دوران اس دعا کا جواب دیا تھا، فرمایا :

قنادتہ الملائکۃ وھو قانم یصلی فی المحراب ان اللہ یثرک بیحیی (آل عمران :39) سو فرشتوں نے ان کو نداء کی جس وقت وہ حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے کہ بیشک اللہ تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 3