أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ۙ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لئے فردوس کی جنتوں کی مہمانی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لئے فردوس کی جنتوں کی مہمانی ہے وہ اس میں ہمیشہ رہین والے ہیں وہ اس جگہ کو تبدیل کرنا نہیں چاہیں گے (الکھف :107-108)

جنت الفردوس کا مقام 

قتادہ نے کہا فردوس سب سے بلند، متوسط، سب سے اعلیٰ اور افضل جنت ہے۔ حضرت ابوامامہ باہی نے کہا فردوس جنت کی ناف ہے۔ کعب نے کہا جنتوں میں جنتہ الفردوس سے اعلیٰ کوئی جنت نہیں ہے۔ اس میں نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے ہوں گے۔ حدیث میں ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے، اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کر دے، خواہ ا نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا اپنے اس گھر میں بیٹھا رہا ہو جس گھر میں وہ پیدا ہوا ہے۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم لوگوں کو اس کی خبر نہ دیں ؟ آپ نے فرمایا : جنت میں سو درجے ہیں جن کو اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کے لئے تیار کیا ہے۔ ہر دو درجوں کے درمیان زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا متوسط اور سب سے بلند درجہ ہے۔ اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کے دریا جاری ہوتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2790, 7427 مسند احمد رقم الحدیث :8400 عالم الکتب، سنن الترمذی رقم الحدیث :2530)

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان آسمان اور زمین جتنا فاصلہ ہے اور فردوس جنت کا سب سے بلند درجہ ہے اور اس کے اوپر عرش ہے پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2531، مسند احمد ج ٥ ص 316، مسند عبدبن حمید رقم الحدیث :182، المسند الجامع رقم الحدیث :5614) 

جنت کے فضائل 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں سو درجے ہیں اور اس کے کسی ایک درجے میں تمام جہان سما سکتے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2532، مسند احمد ج ٣ ص 29، مسند ابویعلی رقم الحدیث :1398)

حضرت ابوہریرہ (رض) باین کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو گروہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا اس کی صورت چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگی۔ اس میں وہ نہ تھوکیں گے نہ ان کو رینٹ آئے گی اور نہ ہی وہ پاخانہ کریں گے۔ ان کے برتن سونے کے ہوں گے اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیاں اگر کی ہوں گی ان کا پسینہ مشک (کی طرح) ہوگا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی ان کے حسن کے سبب سے ان کی ہڈیوں کا گودا گوشت کے پار سے دکھائی دے گا۔ ان میں کوئی اختلاف ہوگا نہ بغض ہوگا ان سب کے دل ایک طرح ہوں گے، وہ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں گے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :3537، مصنف عبدالرزاق 20866، صحیح البخاری رقم الحدیث :3245، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :7436)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال آیا ہے اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :

(السجدۃ :17) کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3244 صحیح مسلم رقم الحدیث :2824 سنن الترمذی رقم الحدیث :3197)

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل جنت، جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے چہروں اور جسموں پر بال نہیں ہوں گے اور ان کی عمر تیس یا تینتیس سال ہوگی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2545، مسند احمد ج ٥ ص 243) 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں اس امت کی ہوں گی اور چالیس صفیں باقی امتوں کی ہوں گی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2546 مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ۃ ص 470، مسند احمد ج ٥ ص 347 سنن الداری رقم الحدیث :3838 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 4289، صحیح ابن حیان رقم الحدیث 7459)

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا :

(یونس :26) جن لوگوں نے نیک کام کئے ان کے لئے اچھا اجر ہے اور (اس سے) زیادہ بھی ہے۔

آپ نے فرمایا : جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ایک منادی ندا کرے گا تمہارے لئے اللہ کے پاس ایک وعدہ ہے وہ کہیں گے کیا اللہ نے ہمارا چہرہ سفید نہیں کیا۔ کیا اس نے ہم کو دوزخ سے نجات نہیں دی اور ہم کو جنت میں داخل نہیں کیا ؟ وہ کہیں گے کیو نہیں ! پھر (اللہ اور ان کے درمیان سے) حجاب اٹھا دیا جائے گا۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان کو اس کی طرف دیکھنے کی بہ نسبت زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں دی تھی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث 2552، سنن ابودائود الیالسی :1315 مسند احمد ج ٤ ص 332 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :187 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :7441 المعجم الکبیر رقم الحدیث :7314، شرح السنتہ رقم الحدیث :4393، المسند الجامع رقم الحدیث :5422)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل جنت میں سب سے کم درجہ اس شخص کا ہوگا جو ایک ہزا رسال کی مسافت سے اپنی جنتوں، اپنی بیویوں، اپنی نعمتوں، اپنے خادموں اور پانی باندیوں کو دیکھے گا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اہل جنت میں سب سے زیادہ مکرم شخص وہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے چہرے کا صبح اور شام دیدار کرے گا۔ پھر رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھی :

وجوۃ یومئذ ناصرۃ الی ربھا ناظرۃ (القیامتہ :22-23) اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2553، مسند احمد ج ٢ ص 13 سمند ابویعلی رقم الحدیث :15712 المستدرک ج ٢ ص 509، حلیتہ الاولیاء، ج ٥ ص 87 شرح السنتہ رقم الحدیث :4395)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت سے ارشاد فرمائے گا اے اہل جنت ! وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں اور تیری اطاعت پر کمر بستہ ہیں۔ وہ فرمائے گا کیا تم راضی ہوگئے۔ وہ کہیں گے ہم کیوں راضی نہیں ہوں گے تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں جو تو نے اپنی مخلوق میں سے اور کسی کو عطا نہیں فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں اب تم کو اس سے افضل نعمت عطا کروں گا وہ کہیں گے اس سے افضل کون سی نعمت ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہارے اوپر اپنی رضا کو حلال کر دوں گا اور کبھی بھی ابد تک تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2555، صحیح البخاری رقم الحدیث :6549, 7518، صحیح مسلم رقم الحدیث :2829، مسند حمد ج ٣ ص 888 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :7440 حلیتۃ اولیاء ج ٦ ص 342، شرح السنتہ رقم الحدیث :4394)

ان جاہل شعراء اور جعلی صوفیا کا رد جو جنت کو کم تر کہتے ہیں 

موخر الذکر ان تین حدیثوں سے معلوم ہوا کہ سب سے عظیم نعمت اللہ تعالیٰ کا دیوار اور اس کی رضا ہے لیکن یہ نعمت بھی جنت میں حاصل ہوگی۔ بعض جاہل شعراء اور جعلی اور بناوٹی صوفیاء جنت کی بہت تحقیر کرتے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس کی رضا کی اہمیت بیان کر کے جنت کی طلب کو بہت گھٹیا اور بہت خسیس کہتے ہیں، حالانکہ قرآن اور حدیث میں جنت کی بہت فضیت ذکر فرمائی ہے اور اس کی طلب کی ترغیب دی ہے اور جنت کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی جنت کا سوال کیا ہی اور ہمیں بھی جنت الفردوس کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں دنیا کا طلب کار مئونث ہے جنت کا طلب گار مخنث (ہیجڑا) ہے اور مولیٰ کا طلب گار مذکر ہے، اسی طرح یہ لوگ مدینہ منورہ کی طلب کے مقابلہ میں بھی جنت کی طلب کو گھٹیا اور خسیس کہتے ہیں ان کے اس قسم کے اشعار ہوتے ہیں :

تیری میری چاہ میں زاہد بس اتنا فرق ہے تجھ کو جنت چاہیے مجھ کو مدینہ چاہئے 

حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس جگہ آرام فرما ہیں وہ بھی جنت کا ایک ٹکڑا ہے اور آخرت میں بھی آپ جنت میں ہوں گے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیامت گاہ اول آخر جنت ہی ہے تو پھر جنت کو مدینہ کے مقابلہ میں کیوں گھٹیا کہا جاتا ہے اور مدینہ منورہ میں زمین کے جس ٹکڑے پر آپ اب تشریف فرما ہیں یہ آپ کی عارضی قیام گاہ ہے اور آپ کی دائمی قیام گاہ جنت ہے تو پھر آپ کی دائمی قیام گاہ کے درجہ میں کمی کرنا کیا یہی آپ سے عشق و محبت کا تقاضا ہے۔ اللہ کی رضا کے مقابلہ میں بھی جنت کو کم درجہ کا اور گھٹیا کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم کو جنت نہیں اللہ تعالیٰ کی رضا چاہیے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ جس جنت کی اللہ تعالیٰ نے بہت تعریف کی ہے اور اس کو طلب کرنے اور اس کی طرف دوڑنے کا حکم دیا ہے تو اس کو معمولی اور گھٹیا کہنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگا یا ناراض !

سب سے بلند درجہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اور اس کی رضا کا ہے اور اس کے بعد جنت کا درجہ ہے لیکن یہ بلند درجات جنت میں ہی حاصل ہوں گے اس لئے جنت کی طرف رغبت کرنا چاہیے اور جنت کے حصول کی دعا کرنی چاہیے، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کمان کے ایک سر کے برابر جنتی جگہ ان تمام جگہوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے یا غروب ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2793 صحیح مسلم رقم الحدیث :1882، سنن النسائی رقم الحدیث :3118)

حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں ایک چابک کے برابر جگہ بھی دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3250، 2792، صحیح مسلم رقم الحدیث :1881، سنن النسائی رقم الحدیث :3118، مسند احمد ج ٣ ص 433، سنن الداری رقم الحدیث :2403 المسند الجامع رقم الحدیث :5121)

جنت کو کم تر قرار دینے والے جاہل شعراء اور جعلی صوفی حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حصول جنت کی دعا کی ہے :

واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (الشعراء :85) اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے۔ اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی جنت کے حصول کی دعا کی ہے :

واسئلک الدرجات العلی من الجنۃ آمین : اور میں تجھ سے جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں۔ آیمن (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص 316، رقم الحدیث :717 المعجم الاوسط رقم الحدیث :6218، بیروت، حافظ البیہقی نے لکھا ہے کہ المعجم الکبیر کی دو سندوں میں سے ایک سند اور المعجم الاوسط کی سند کے راوی ثقہ ہیں، مجمع الزوائد ج 10 ص 177)

اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حصول جنت کی دعا کی ہے تو پھر جنت کی دعا کرنے کو کم تر قرار دینے کی کیا گنجائش ہے اور ہمارے لئے یہ حدیث کافی ہے :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے تین مرتبہ اللہ سے جنت کا سوال کیا تو جنت کہتی ہے اے اللہ ! اس کو جنت میں داخل کر دے اور جس نے تین مرتبہ دوزخ سے پناہ طلب کی تو دوزخ کہتی ہے اے اللہ ! اس کو دوزخ سے پناہ میں رکھ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2572، مصنف ابن ابی شیبہ ج 10 ص 421، مسند احمد ج ٣ ص 117 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4340، سنن النسائی رقم الحدیث :5536، مسند ابویعلی رقم الحدیث :3682، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :1014، المستدرک ج ١ ص 535)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 107