حکایت نمبر314: غلامئ سادات کی برکات

حضرت سیِّدُنا احمدبن خَصِیب علیہ رحمۃ اللہ الحسیب وزیربننے سے قبل کاایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”میں خلیفہ مُتَوَکِّل کی والدہ کاکاتب تھا، ایک دن میں کچہری میں بیٹھاہواتھاکہ خادم ایک تھیلالئے ہوئے میرے پاس آیااورکہا:”اے احمد!خلیفہ کی والدہ آپ کوسلام کہتی ہے ،اس نے یہ ہزار دیناربھجوائے ہیں اورکہاہے کہ” یہ دینارمیرے حلال وطیب مال میں سے ہیں ، انہیں مُسْتَحِقِّیْن میں تقسیم کرکے ان کے نام ونسب اورمکمل پتہ لکھ کرہمیں بھجوادو تاکہ جب کبھی ان علاقوں سے کوئی ہمارے پاس آئے توہم ان کی طرف ہدیہ بھجوادیں ۔”

میں نے وہ دینار لئے اوراپنے گھرچلا آیا۔ اب میں اس فکرمیں تھاکہ ایساکون ہے جومجھے ان لوگوں کے نام بتائے جو تنگدستی وغربت کے باوجود سفیدپوش ہیں اورکسی کے سامنے دستِ سوال درازنہیں کرتے ،کیونکہ ایسے لوگ ہی مالی امداد کے زیادہ مستحق ہیں۔بالآخرشام تک میرے پاس غریب و تنگدست اور سفیدپوش وخودارلوگوں کی ایک فہرست تیارہوگئی۔میں نے تین سو (300) دینار ان میں تقسیم کردیئے،اب کوئی اورایسانہ تھاجسے رقم دی جاتی ،رات نے آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا دیئے ۔ میرے پاس سات سو(700)دینارموجود تھے لیکن اب کوئی بھی ایساشخص معلوم نہ تھاجس کی مدد کی جاتی۔رات کاایک حصہ گزرچکا تھا۔ میرے سامنے کچھ سرکاری غلام موجود تھے ،باہرپہرے دارپھررہے تھے،برآمدے کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ میں بقیہ دیناروں کے بارے میں فکرمند تھاکہ دروازے پرکسی نے دستک دی ،پھرچوکیدار کی آوازسنائی دی وہ آنے والے سے پوچھ گَچھ کر رہاتھا۔میں نے خادم بھیجاتواس نے بتایاکہ دروازے پرایک سیدزادہ ہے جوآپ کے پاس آنے کی اجازت چاہتاہے ۔ میں نے کہا:” اسے اندربلالاؤ پھراپنے پاس موجود تمام لوگوں سے کہا:”اس وقت یہ ضرورکسی حاجت کے پیشِ نظر آرہا ہوگا ، ہو سکتا ہے تمہارے سامنے حاجت بیان کرنے میں اسے جھجک محسوس ہوتم ایک طرف ہوجاؤ۔”جب وہ سب چلے گئے توسیدزادہ میرے پاس آیااورسلام کرے بیٹھ گیا،پھرکہنے لگا:”اس وقت آپ کے سامنے ایساشخص موجودہے جسے حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے خاص قربت ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !ہمارے پاس ایسی کوئی چیز نہیں جس سے ہماراگزارہ ہو سکے اورنہ ہی ہمارے پاس دیگر لوگوں کی طرح درہم ودینار ہیں کہ ہم اپنے لئے کھانے کی کوئی چیز خرید سکیں۔ہمارے پڑوس میں آپ کے علاوہ ایساکوئی شخص نہیں جواس کڑے وقت میں ہماری مدد کرسکے ۔”

میں نے اس کی گفتگو سن کرایک دینار اسے دے دیا اس نے میراشکریہ اداکیااوردعائیں دیتاہوا رخصت ہوگیا۔ پھر میری زوجہ میرے پاس آئی اورکہنے لگی:” اے بندۂ خداعَزَّوَجَلَّ ! تجھے کیاہوگیا؟خلیفہ کی والدہ نے تجھے یہ دینارمستحقین میں تقسیم کرنے کودیئے تھے ،ایک سیدزادے نے تجھ سے عیال داری اورتنگدستی کی شکایت کی توتُونے صرف اسے ایک دیناردیا،افسوس ہے تجھ پر!آلِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ورضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ساتھ اس طرح کابرتاؤ ہرگزمناسب نہیں ۔”اہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی محبت سے سرشارنیک سیرت بیوی کی گفتگونے میرے دل پر بہت گہرا اثرکیا۔میں نے بے قرار ہو کر پوچھا: ”اب کیاہوسکتاہے اس غلطی کا اِزالہ کس طرح کیا جائے۔”اس نے کہا:”یہ سارے دیناراس سیدزادے کی خدمت میں پیش کر دے۔” میں نے غلام سے کہا:”جاؤاورفوراًاس سیدزادے کوبلا لاؤ،وہ گیااوراسے لے آیا۔میں نے اس سے معذرت کی اور سات سودیناروں سے بھراتھیلا اس کے حضورپیش کردیا۔وہ دعائیں دیتااورشکریہ ادا کرتا ہوا رخصت ہوگیا۔”پھرمجھے شیطانی وسوسہ آیاکہ خلیفہ مُتَوِکِّل ساداتِ کرام سے زیادہ خوش نہیں، اس کی والدہ” شجاع” نے غریبوں ، مسکینوں میں تقسیم کرنے کے لئے جورقم دی تھی اس کابڑاحصہ توایک سیدزادے کی خدمت میں پیش کردیاگیا کہیں ایسانہ ہوکہ خلیفہ مجھ پرغضب ناک ہو اورمجھے سزا کاسامنا کرناپڑے۔میں نے اس پریشانی کااظہاراپنی بیوی پرکیاتواس مُتَوَکِّلَہ وصابرہ خاتون نے کہا:”آپ ان ساداتِ کرام کے نانا جان پربھروسہ رکھیں اورسارامعاملہ ان پرچھوڑ دیں ۔”میں نے کہا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تواچھی طرح جانتی ہے کہ خلیفہ متوکل ساداتِ کرام سے کیسابرتاؤ کرتاہے۔جب وہ مجھ سے اس رقم کے متعلق پوچھے گاتومیں کیاجواب دوں گا؟”اس نے کہا:”میرے سرتاج! آپ سارامعاملہ حضورنبئ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سپرد کردیں ۔جس سیدزادے کی آپ نے مددکی اس کے ناناجان ہی آپ کابدلہ چکائیں گے ،آپ ان پربھروسہ رکھیں ۔”وہ اس طرح میری ڈھارس بندھاتی رہی پھرمیں اپنے بستر پرجا لیٹا۔ابھی میں سونے کی کوشش کررہاتھاکہ دروازے پر دستک ہوئی،میں نے خادم سے کہا:”جاؤ! دیکھو! اس وقت کون آیاہے؟”وہ گیا اور واپس آکرکہا:”خلیفہ کی والدہ شجاع نے پیغام بھجوایاہے کہ فوراًمیرے پاس پہنچو۔”میں صحن میں آیاتودیکھاکہ آسمان پرستارے جگمگا رہے تھے۔ رات کافی بِیت (یعنی گزر)چکی تھی ابھی میں صحن میں ہی تھاکہ دوسراقاصد آیاپھرتیسرا۔میں نے تینوں کواپنے پاس بلایا اور کہا: ”کیااتنی رات گئے جاناضروری ہے ؟ ” انہوں نے کہا:”ہاں!آپ فوراً!خلیفہ کی والدہ کے پاس چلیں ۔”چنانچہ، میں سواری پرسوار ہو کر محل کی طرف چل دیاابھی تھوڑی ہی دورچلاتھاکہ بہت سارے قاصد ملے جومجھے بلانے آ رہے تھے۔میں محل میں پہنچا توخادم مجھے ایک سمت لے کر گیا۔ایک جگہ جاکروہ ٹھہر گیا،پھرخادمِ خاص آیااورمیرا ہاتھ پکڑ کر بولا: ”اے احمد!خلیفہ کی والدہ آپ سے گفتگو کرناچاہتی ہے جہاں آپ کوٹھہرایاجائے وہیں ٹھہرنااورجب تک سوال نہ کیا جائے اس وقت تک کچھ نہ بولنا۔”پھروہ مجھے ایک خوبصورت کمرے میں لے گیاجس میں بہترین پردے لٹک رہے تھے اورکمرے کے وسط میں شمع دان رکھاہواتھا،مجھے ایک دروازے کے پاس کھڑا کر دیاگیا۔میں چپ چاپ وہاں کھڑا رہا،پھرکسی نے بلند آواز سے پکارا: اے احمد!میں نے آوازپہچان کرکہا:”اے خلیفہ کی والدہ! میں حاضرہوں ۔”پھرآوازآئی: ”ہزاردیناروں کاحساب ،بلکہ سات سو دیناروں کاحساب دو ،اتنا کہہ کرخلیفہ کی والدہ کے رونے کی آواز آنے لگی ،میں نے اپنے دل میں کہا:”اس سیدزادے نے کسی دکان سے کھانے کا سامان اورغلہ وغیرہ خریدا ہوگااورکسی مخبرنے خلیفہ کوخبردی ہوگی کہ مَیں نے اس سیدزادے کی مدد کی ہے،توخلیفہ نے مجھے قتل کرنے کاحکم دیاہوگا،جس کی وجہ سے اس کی والدہ مجھ پرترس کھاتے ہوئے رورہی ہے ،میں انہیں سوچوں میں گُم تھاکہ دوبارہ آوازآئی:اے احمد!ہزاردیناروں کاحساب دو،بلکہ سات سودیناروں کے متعلق مجھے بتاؤ۔اتناکہہ کروہ پھرزاروقطاررونے لگی ۔اس طرح اس نے کئی مرتبہ کیااوردیناروں کے متعلق باربارپوچھا۔میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔جب سید زادے کاذکرآیاتووہ رونے لگی اور کہا:”اے احمد! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اور جو تیرے گھر میں نیک خاتون ہے اسے بہترین جزاء عطا فرمائے ،کیا تو جانتا ہے کہ آج رات میرے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے ؟ میں نے لا علمی کا اظہار کیا تو کہا: ”آج رات جب میں سوئی تو میری سوئی ہوئی قسمت جاگ اٹھی میں نے خواب میں حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت کی، لب ہائے مبارکہ کو جُنبش ہوئی،رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ احمد بن خَصِیب اور اس کے گھر میں موجود نیک خاتون کو بہترین جزاء عطا فرمائے ،آج رات تم لوگوں نے میری اولاد میں سے تین ایسے شخصوں کی تنگدستی دور کی جن کے پاس کچھ بھی نہ تھا، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔”خواب سنا نے کے بعد کہا:” اے احمد بن خَصِیب!یہ زیورات ،کپڑے اور دیناروں کی تھیلیاں اس سید زادے کو دے دینا جس کی برکت سے مجھے نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کادیدار نصیب ہوا۔اس سے کہہ دینا کہ جب کبھی ہمارے پاس مال آئے گا ہم تمہارے لئے بھجوادیا کریں گے۔ پھر خلیفہ کی والدہ شجاع نے کچھ اور سامان دیتے ہوئے کہا:” یہ زیورات، کپڑے اور دینار اپنی زوجہ کودینا اور کہنا: ”اے نیک ومُبَارَک خاتون! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اچھی جزاء عطافرمائے۔ تمہارے ہی مشورے پر اس سید زادے کو رقم دی گئی اور اس طرح مجھے دیدارِ نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نصیب ہوا، یہ نذرانہ قبول کر لیجئے۔ اور اے احمد! یہ کپڑے اور رقم تم اپنے پاس رکھو یہ تمہارے لئے ہیں ۔”میں تمام سامان لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا راستے میں ہی اس سید زادے کا گھر تھا میں نے دل میں کہا:” جس کی برکت سے مجھے اتنا انعام ملا اسی سے خیر کی ابتداء کرنی چاہے ۔”چنانچہ، میں اس کے گھر گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا ،اندر سے پوچھاگیا: ”کون؟ ” میں نے اپنا نام بتایا تو وہی سیدزادہ باہر آیا اور کہا: ”اے احمد! ہمارے لئے جو مال لے کر آئے ہو وہ ہمیں دے دو۔” میں نے حیران ہو کر پوچھا:” تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں تمہارے لئے ہدیہ لایا ہوں ؟”کہا : ”بات دراصل یہ ہے کہ جب میں تمہارے پاس سے رقم لایا اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا میں نے تمہاری دی ہوئی رقم اپنی زوجہ کو دی تو وہ بہت خوش ہوئی اور کہا :”آؤ! ہم اس شخص کے لئے دعا کریں جس نے ہماری مدد کی ،تم نماز پڑھو اور دعا کرو میں آمین کہوں گی۔” پس میں نے نماز پڑھ کر دعا کی اور اس نے”آمین” کہی۔ پھر مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی میری آنکھیں تو کیا بند ہوئیں دل کی آنکھیں کھل گئیں میں خواب میں اپنے نانا جان،رحمتِ عالَمِیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت سے مشرف ہوا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا :”جنہوں نے تمہارے ساتھ بھلائی کی ہم نے ان کا شکریہ ادا کردیا ہے اب وہ دوبارہ تمہیں کچھ چیزیں بطورِخیر خواہی دیں گے تم قبول کرلینا۔”حضرت سیِّدُنااحمد بن خَصِیب علیہ رحمۃ اللہ الحسیب فرماتے ہیں: ”اس وقت میرے پاس جو کچھ بھی مال واسباب تھا سب اس سید زادے کے حضور پیش کرکے خوشی خوشی گھر چلا آیا۔ میں نے اپنی زوجہ کو مشغولِ دعا ومناجات پایا وہ کافی بے چین ومضطرب نظر آ رہی تھی ۔جب اسے میرے گھر آنے کا علم ہوا تو میرے پاس آئی اور خیریت معلوم کی میں نے جانے سے لے کر واپسی تک کا تمام واقعہ کہہ سنایا۔” اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکریہ ادا کیا اور کہا:” میں نہ کہتی تھی کہ آپ ان کے ناناجان ،رحمتِ عالمیان ،سرورِ ذیشان، سرکارِ کون ومکان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر بھروسہ رکھیں اور معاملہ ان کے سپرد کردیں ، دیکھیں! انہوں نے کیسا لطف وکرم فرمایا اور کیسے ہماری دستگیری فرمائی، پھر میں نے اپنی زوجہ سے کہا:اچھا! حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے مجھے جو انعام ملا ہے اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟”حالانکہ میں نے اس کا حصہ اس کے حوالے کردیا جو اس نے بخوشی قبول کرلیا ۔(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیا شان ہے ساداتِ کرام اور ان کے نانا جان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی! اس سخی گھرانے کے ساتھ جو بھی حسنِ سلوک کرتا ہے وہ محروم ومایوس نہیں ہوتا بلکہ اس پر انعام واکرام کی ایسی بارش ہوتی ہے کہ محتاجوں اور غمگینو ں کے دلوں کی مُرجھائی کَلیاں کھِل اٹھتی ہیں ،گردشِ ایام کی زد میں آکر سنسان وویران ہوجانے والے باغات میں بہار آجاتی ہے۔جس نے بھی ان مُبَارَک ہستیوں سے حُسنِ سلوک کیا وہ بے شمار پریشانیوں سے نجات پاکر شاداں وفرحاں ہوگیا۔ اور کیوں نہ ہو کہ کریموں سے تعلق رکھنے والے پر بھی ضرور کرم کیا جاتاہے ۔ساداتِ کرام چمنستانِ کرم کے مہکتے پھول ہیں ان کی خوشبو سے عالَمِ اسلام مہک رہا ہے، انہیں درخشاں ستاروں کی روشنی سے نہ جانے کتنے بھولے بھٹکے مسافروں کو نشانِ منزل ملا۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ،عظیم المرتبت،عظیم البرکت، پروانۂ شمعِ رسالت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن، اہل بیتِ اطہار کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

؎ کیا بات رضا ؔاس چمنستانِ کرم کی زہراء ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اِن نُفُوسِ قُدْسِیَّہ کے صدقے دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے ،ان ساداتِ کرام کا باادب بنائے ،بے ادبوں سے ہم سب کو محفوظ فرمائے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ان کی غلامی میں استقامت عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے ۔(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)؎ صحابہ کا گدا ہوں اور اہلِ بیت کا خادم یہ سب ہے آپ کی نظرِ عنایت یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ علیہ وسلم