أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَخَرَجَ عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنَ الۡمِحۡرَابِ فَاَوۡحٰٓى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُكۡرَةً وَّعَشِيًّا‏ ۞

ترجمہ:

پھر زکریا اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو اشارے سے کہا کہ تم صبح اور شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر زکریا اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو اشارے سے کہا تم صبح اور شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو (مریم :11)

حضرت زکریا کی محراب کا مصداق 

محراب کا لفظ حرب سے بنا ہے گویا وہ جس جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے اس جگہ کھڑے ہو کر وہ اپنے نفس امارہ، شہوات اور شیطان سے جنگ کرتے تھے، محراب بلند جگہ کو کہتے ہیں، جو جگہ زمین سے بلند ہو وہ اس جگہ محراب بنایا کرتے تھے، اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس جگہ کھڑے ہو کر انہوں نے جھانکا اور اشاروں کے ساتھ قوم سے کہا تم صبح اور شام تسبیح کیا کرو۔ (الجامع لاحکام القرآن ج ١١ ص 13)

امام رازی نے کہا حضرت زکریا نے نماز پڑھنے اور عبادت کرنے کے لئے مخصوص جگہ بنائی ہوئی تھی، وہ اس جگہ سے نکل کر قوم کے پاس گئے اور ان سے اشاروں کے ساتھ بات کی۔ ایک قول یہ ہے کہ محراب کا معنی ہے عبادت گاہ جس میں حضرت زکریا اور ان کی قوم عبادت کرتی تھی اس میں وہ لوگ صرف نماز پڑھنے کے لئے جاتے تھے۔ قوم وہاں پر جمع ہو کر حضرت زکریا کا انتظار کر رہی تھی، حضرت زکریا وہاں گئے اس وقت وہ زبان سے بات نہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے ان سے اشاروں سے کہا تم صبح اور شام کے وقت تسبح کرو۔ (تفسیر کبیرج ٧ ص 515)

محراب کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

علامہ محمد بن محمد زبیدی متوفی 1205 ھ لکھتے ہیں :

دجاج نے کہا ہے کہ گھر کی سب سے بلند جگہ کو محراب کہتے ہیں اور مسجد کی سب سے بلند جگہ کو محراب کہتے ہیں، گھر کے بالا خانہ (گیلری اور بالکونی) کو بھی محراب کہتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عروہ بن مسعود ثقفی کو طائف میں اپنی قوم کے پاس بھیجا وہ ان کے پاس گئے اور اپنی محراب (بالکونی) میں داخل ہوئے اور فجر کے وقت اپنی قوم کو جھانک کر دیکھا پھر نماز کے لئے اذان دی۔ زجاج نے کہا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محراب وہ بالا خانہ (گیلری یا بالکونی) ہے جس پر سیڑھیوں سے چڑھ کر جاتے ہیں۔ ابوعبیدہ نے کہا محراب سے معزز جگہ مراد ہے۔ مصباح میں ہے محراب اشرف المجالس ہے۔ ازھری نے کہا عام لوگوں کے نزدیک محراب وہ جگہ ہے جس پر کھڑے ہو کر امام نماز پڑھاتا ہے، ابن الانباری نے کہا مسجد کی محراب کو محراب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ امام کی مخصوص جگہ ہے اور قوم سے دور ہے اور اس جگہ نماز پڑھتے وقت وہ شیطان سے حرب اور جنگ کرتا ہے اور اپنے دل کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر رکھنے کے لئے اپنے نفس سے حرب کرتا ہے اور دوسرے خیالات کو ذہن سے دور کرتا ہے۔ بادشاہ کی مخصوص جگہ کو بھی محراب کہتے ہیں اور مسجد کی محراب سے مراد ہے مسجد کا صدر مقام اور اشرف موضع، حدیث میں ہے کہ حضرت انس (رض) محاریب کو مکروہ جانتے تھے، یعنی مجلس میں صدر مقام پر بیٹھنے کو مکروہ جانتے تھے، قرآن مجید میں محاریب اور تماثیل کا ذکر ہے فراء نے کہا اس سے مراد انبیاء اور ملائکہ کے مجسمے اور تصاویر ہیں جن کو مساجد میں عبرت اور نصیحت کے حصول کے لئے کھا جاتا تھا۔ (تاج العروس ج ١ ص 207، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی 1014 ھ لکتھ یہیں :

قرآن مجید میں حراب سے مراد وہ ہئیت مخصوصہ ہے جس کو اب لوگ قبلہ کہتے ہیں کیونکہ مساجد کی یہ محرابیں ان چیزوں میں سے ہیں جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بنایا گیا ہے اور اسی وجہ سے سلف کی ایک جماعت نے محراب بنانے کو مکروہ کہا ہے او اس میں نماز پڑھنے کو بھی مکروہ کہا ہے۔ قضاعی نے کہا سب سے پہلے عمر بن عبدالعزیز نے محراب بنائی وہ اس وقت ولید بن عبدالملک کی طرف سے مدینہ میں گورنر تھے، جب انہوں نے مسجد نبوی کو منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کی اور اس میں اضافہ کیا اور مسجد میں امام کے کھڑا ہونے کی جگہ کو محراب کہتے ہیں کیونکہ وہ مسجد میں اشرف المجالس ہے۔ (مرقات ج ١ ص 224، مطبوعہ مکتبہ امداد یہ ملتان، 1390 ھ)

امام کے محراب میں کھڑے ہونے کی تحقیق 

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکرا المرغینانی الحنفی المتوفی 593 ھ لکھتے ہیں :

اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ امام کے پیر مسجد میں ہوں اور اس کا سجدہ محراب میں ہو اور اس کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل کتاب کے طریقہ کے مشابہ ہے کہ ان کے ہاں امام کی مخصوص جگہ ہوتی ہے۔ بخلاف اس کے کہ اس کا سجدہ محراب میں ہو۔ (ھدایہ اولین ص 141، مطبوعہ مکتبہ شرکتہ علیہ ملتان)

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن الھمام الحنفی المتوفی 861 ھ لکھتے ہیں :

محراب میں کھڑے ہونے کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ممتاز ہوتا کہ اس کے دائیں اور بائیں کے لوگوں پر اس کا حال مشتبہ نہ ہو حتیٰ کہ محراب کی دونوں طرف دو ستون ہوں اور اس کے سامنے کشادہ جگہ ہو اور اس کی دونوں طرف والے اس کے حال پر مطلع ہوں تو اس کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں ہے اور مکروہ ہونا عراق میں ہوتا ہے جن کی محرابیں کھوکھلی اور طاق کے اندر ہوتی ہیں اور یہ بات مخفی نہ رہے کہ جگہ کے اعتبار سے امام کا ممتاز ہونا شرع میں مطلوب ہے حتی کہ امام کا صفوں پر مقدم ہونا واجب ہے اور یہاں امام کی مخصوص جگہ کو مکروہ کہا ہے اور اس کی تائید میں کوئی اثر (حدیث) نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہدے سے مساجد میں محاریب بنائی گئی ہیں اور اگر محاریب نہ بنائی گی ہوں تب بھی سنت یہ ہے کہ امام اس کی محاذات میں صف کے وسط میں سب سے آگے کھڑا ہو اور یہی مطلوب ہے کیونکہ محراب کی محاذات (سیدھ) کے بغیر امام کا کھڑا ہونا مکروہ ہے اور امام کے محراب میں کھڑے ہونے سے زیادہ سے زیادہ یہ لازم آئے گا کہ دو ملتوں کے بعض احکام متفق ہوجائیں اور اس میں کوئی بدعت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اہل کتاب امام کے لئے خصوصیت کے ساتھ بلند چبوترہ بناتے ہیں اور جب امام محراب میں فرش پر کھڑا ہوگا تو اس میں اہل کتاب کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں ہے۔ (فتح القدیر ج ۃ ص 25 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)

نیز عالمہ ابن ھمام لکھتے ہیں کہ تشبہ اس وقت ہے جب امام بنلد جگہ پر کھڑا ہو کیونکہ اہل کتاب امام کو چبوترے پر کھڑا کرتے ہیں، اس صورت میں امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں ہے کیونکہ کراہت کا مدار مشابہت پر ہے اور وہ امام کو نیچے (فرش پر) کھڑا نہیں کرتے۔ چبوترہ کی اتنی اونچائی جس پر کراہت موقوف ہے وہ آدمی کے قد کے برابر ہے اور مختار قول یہ ہے کہ وہ ایک ذراع اونچائی ہے یعنی ڈیڑھ فٹ۔ (فتح القدیر ج ١ ص 245، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں :

امام کا غیر محراب میں کھڑے ہونا مکروہ ہے کیونکہ اس سے پہلے علامہ علائی نے یہ کہا ہے کہ سنت یہ ہے کہ امام محراب میں کھڑا ہو اور ایک اور جگہ کہا ہے کہ سنت یہ ہے کہ امام وسط صف کے مقابل کھڑا ہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہم حاریب کو مسجد کے وسط میں صرف اس لئے بنایا گیا ہے کہ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ معین ہو۔ اھ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم اس مام کے لئے ہے جو امام راتب ہو یعنی جماعت اولیٰ کثیرہ کا امام ہو نہ کہ جماعت ثانیہ کا امام کیونکہ وہ محراب کے دائیں یا بائیں کھڑا ہوتا ہے۔ (ردا المختارج ٢ ص 266، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1419 ھ )

بعض ناواقف لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ محراب مسجد سے خارج ہوتی ہے اس لئے امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے، علامہ ابن ھمام کی تحقیق سے واضح ہوگیا ہے کہ امام کا محراب میں کھڑا ہونا اس وقت مکروہ ہے جب محراب میں امام کے لئے چبوترہ بنایا گیا ہو، ورنہ امام کا محراب میں کھڑے ہونا مکروہ نہیں ہے، نیز مسجد سے خارج وہ چیز ہوگی جس کو مسجد بناتے وقت مسجد سے خارج رکھا جائے اور عرف اس پر شاہد ہے کہ مجسد بناتے وقت محراب کو مسجد سے خارج رکھنے کا قصد نہیں کیا جاتا۔

امام ابن ھمام نے جو یہ لکھا ہے کہ امام کا محراب میں کسی بنلد جگہ یا چبوترہ پرک ھڑے ہو کر نماز پڑھانا مکروہ ہے اس کی دلیل ان احادیث میں ہے :

ھمام بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوحذیفہ نے مدائن میں چبوترہ پر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائی، حضرت ابو سعید (رض) نے ان کو قمیض سے پکڑ کر نیچے کھینچ لیا اور جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو کہا کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو اس سے منع کیا جانا تھا ! انہوں نے کہا ہاں ! جب تم نے مجھے کھینچا تو مجھے اید آیا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :597)

عدی بن ثابت انصاری بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عمار بن یاسر (رض) کے ساتھ مدائن میں تھے، حضرت عمار آگے بڑھ گئے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے۔ حضرت حذیفہ نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھوں کو پکڑ لیا۔ حضرت عمار نے ان کی اتباع کی، حتیٰ کہ حضرت حذیفہ نے ان کو نیچے اتار لیا۔ جب حضرت عمار نماز سے فارغ ہوگئے تو حضرت حذیفہ نے ان سے کہا کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص لوگوں کا امام بنے تو لوگوں سے بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو۔ حضرت عمار نے کہا اسی وجہ سے میں نے آپ کی اتباع کی تھی جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تھا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :958، سنن کبری للبیہقی ج ٣ ص 109)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 11