أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اجۡعَلْ لِّىۡۤ اٰيَةً‌ ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا‏۞

ترجمہ:

زکریا نے کہا اے میرے رب ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے فرمایا تمہارے لئے یہ نشانی ہے کہ تم تندرست ہونے کے باوجود تین راتوں تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : زکریا نے کہا، اے میرے رب ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے، فرمایا تمہارے ئے یہ نشانی ہے کہ تم ندرست ہونے کے باوجود تین راتوں تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے (مریم :10)

حضرت زکریا کا تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکنا 

اس پر مفسرین کا اتفاق ہے کہ حضرت زکریا کلام پر قادر ہونے کے باوجود لوگوں سے بات نہیں کرسکتے تھے اس طرح یہ اللہ کی طرف سے نشانی اور آپ کا معجزہ ہوگیا، اگر آپ مطلقاً کلام پر قادر نہ ہوتے تو یہ وہم ہوتا کہ آپ کو کوئی مرض لاحق ہوگیا ہے جس کی وجہ سی آپ بات نہیں کرسکتے، آپ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے، نماز پڑھتے تھے اور تورات کی تلاوت کرتے تھے لیکن لوگوں سے بالمشافہ بات نہیں کرسکتے تھے، ان سے اشاروں کے ساتھ بات کرتے تھے یا ان کو لکھ کر بھیج دیتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 10