أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا وَّقَدۡ بَلَـغۡتُ مِنَ الۡـكِبَرِ عِتِيًّا‏ ۞

ترجمہ:

زکریا نے کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میری اہلیہ بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی وجہ یس انتہائی کمزور ہوچکا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : زکریا نے کہا : اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ! جبکہ میری اہلیہ بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی وجہ سے انتہائی کمزور ہوچکا ہوں (مریم : ٨)

حضرت زکریا کے اس سوال کی توجیہ کہ میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ؟

غلام کا معنی ہے وہ انسان جو مذکر ہو اور اس میں ابتداء جماع کی شہوت پیدا ہوئی ہو، اور ” عتیا “ کا معنی ہے وہ شخص جس کا جسم طویل بڑھاپے کی وجہ سے سوکھ گیا ہو۔ 

اس مقام پری یہ سوال ہے کہ حضرت زکریا نے خود لڑکے کا اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی تو پھر انہوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیوں کیا کہ میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میں بہت بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے تعجب کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ یہ جاننا چاہا تھا کہ ان کے ہاں بیٹا کیسے پیدا ہوگا آیا وہ میاں بیوی اسی طرح بڑھاپے کے حال میں ہوں گے اور ان کے ہاں بیٹا ہوگا یا اللہ تعالیٰ ان کے جسموں کو توانا اور مضبوط بنا دے گا اور ان کی بیوی سے بانجھ پن کے مرض کو زائل کر دے گا پھر ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا اور قرآن مجید کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری اور ان کی بیوی سے بانجھ پن کو دور کر کے ان کو بیٹا عطا فرمائے گا :

فاستجبنا لہ ووھبنا لہ یحییٰ واصلحنا لہ زوجہ (الانبیاء 90) پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو یحییٰ عطا فرمایا اور ہم نے اس کی بیوی کو تندرست کردیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت زکریا نے یہ جاننے کے لئے سوال کیا تھا کہ کس حال میں ان کے لئے بیٹا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بڑھاپے کے عوارض کو دور فرما کر اور ان کی بیوی کے مرض کو دور کر کے ان کے ہاں بیٹا پیدا کیا اور حضرت زکریا کے سوال کرنے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر شک تھا یا ان کو اس پر تعجب تھا کہ ان کے ہاں بشٹا کیسے ہوگا !

اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جب اچانک حضرت زکریا کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی ہے تو شدت فرح کی وجہ سے وہ غور و فکر نہ کرسکے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے اور جب وہ ان کو عدم سے وجود میں لا چکا ہے تو ان دونوں سے بیٹا پیدا کرنا کیا مشکل ہے اور کب مستعبد ہے۔ جیسا کہ جب حضرت ابراہیم کی زوجہ کو حضرت اسحاق کی ولادت کی بشارت دی گئی تو انہوں نے بھی شدت فرح سے غور و فکر کئے بغیر کہا :

(ھود :73) وہ کہنے لگیں اے ہے ! کیا مجھ سے بچہ ہوگا حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا شوہر بوڑھا ہے، بیشک یہ تو عجیب بات ہے ! فرشتوں نے کہا کیا تم اللہ کی قدرت پر تعجب کر رہی ہو، اے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، بیشک اللہ حمد کیا ہوا بزرگ ہے۔

اور اس سوال کا تیسراجواب یہ ہے کہ ہرچند کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو علم تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک بوڑھے شخص اور اس کی بوڑھی اور بانجھ بیوی کے بیٹا پیدا کرسکتا ہے لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے جواب کی لذت حاصل کرنے کے لئے یہ سوال کیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 8