أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّىۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا وَّلَمۡ اَكُنۡۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا ۞

ترجمہ:

اس نے دعا کی اے میرے رب ! بیشک میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اور اے میرے رب ! میں تجھ سے دعا کر کے کبھی محروم نہیں رہا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس نے دعا کی اے میرے رب ! بیشک میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اور اے میرے رب ! میں تجھ سے دعا کر کے کبھی محروم نہیں رہا (مریم : ٤)

دعا کے آداب 

حضرت زکریا نے فرمایا تھا واشتعل الراس شیبا اشتعال کا معنی ہے آگ کی شعاع کا پھیلنا اور بھڑکنا انہوں نے سر میں بڑھاپے (سفید بالوں) کے پھیلنے کو آگ کے بھڑکنے سے تشبیہ دی اور یہ نہیں کہا کہ میرے سر میں بڑھاپا بھڑک اٹھا ہے کیونکہ سیاق کلاس سے مخاطب کو اس کا علم ہوجائے گا۔ زمخشری نے کہا حضرت زکریا نے بالوں کی سفیدی کو آگ کی سفیدی کے ساتھ تشبیہ دی۔

دعا میں ایسے امور کا ذکر کرنا مستحب ہے جن سے دعا کرنے والے کی عاجزی اور تذلل کا اظہار ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان ہو۔ حضرت زکریا نے اپنی عاجزی اور تذلل کا اظہار کرنے کے لئے ہا میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں کیونکہ انسان کے جسم کے زیادہ مضبوط اور سخت اعضاء اس کے جسم کی ہڈیاں ہوتی ہیں جن کے ماقبلہ میں گوشت اور خون کمزور ہوتا ہے اور جب ہڈیاں کمزور ہوجائیں تو جسم کے باقی اعضاء نسبتاً زیادہ کمزور ہوجاتے ہیں، اعصاب ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور پورا جسم نرم اور کمزور ہوجاتا ہے اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ کہا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے عاجزی اور تواضح کی اور اسباب ظاہر پر اعتماد کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی امداد اور اعانت پر بھروسا کیا۔

اس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان کیا اور کہا اے میرے رب ! میں تجھ سے دعا کر کے کبھی محروم نہیں رہا، گویا کہ حضرت زکریا نے یہ کہا کہ تو نے پہلے میری دعا کو رد نہیں کیا تھا حالانکہ اس وقت میرا جسم قوی اور توانا تھا اور مجھے اتنی شدید حاجت نہ تھی تو اب جب کہ میرا جسم کمزور اور لاغر ہوچکا ہے اور مجھے دعا کے قبول ہونے کی پہلے سے زیادہ احتیاج ہے تو میں تیرے کرم کا زیادہ محتاج ہوں اور مجھے قوی امید ہے کہ اب تو ضرور میری دعا کو قبول فرمائے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک سائل کسی سخی داتا کے پاس جا کر کہتا ہے کہ آپ نے پہلے بھی میرے سوال کو پورا کیا تھا اب میں پھر آپ کے پاس اسی امید اور اسی توقع پر آیا ہوں تو وہ سخی داتا یہ کہتا ہے کہ اس شخص نے ہمارے کرم کو اپنا وسیلہ بنایا ہے ہم اس کو مایوس نہیں کریں گے اور اگر کوئی شخص کسی کو ابتداء کچھ نہ دے تو وہ اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا بہ نسبت اس کے کہ اس سے ملنے کی توقع ہو اور وہ نہ دے تو سخی داتا اس شخص کا سوال رد نہیں کرتا تو وہ کیسے سوال کو رد کرے گا جو سب کریموں سے بڑا کریم ہے اور سب سے زیادہ فیاض اور سب سے بڑا داتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 4