أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لَّوۡ كَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّـكَلِمٰتِ رَبِّىۡ لَـنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَـنۡفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّىۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهٖ مَدَدًا۞

ترجمہ:

آپ کہیے اگر میرے رب کے کلمات (کو لکھنے) کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ضرور سمندر ختم ہوجائے گا، خواہ ہم اس کی مدد کے لئے اتنا ہی سمندر اور لے آئیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے اگر میرے رب کے کلمات (کو لکھنے) کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے ضرور سمندر خشک ہوجائے گا۔ خواہ ہم اس کی مدد کے لئے اتنا ہی مسندر اور لے آئیں (الکھف :109)

اللہ کے کلمات کا غیر متناہی ہونا 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم کے کلمات اور اس کے احکام کو لکھا جائے اور سمندر اس کے لئے سیاہی ہو تو اس کے تمام کلمات کو لکھا نہیں جاسکتا خواہ سمندر کتنا ہی وسیع و عریض کیوں نہ ہو، وہ بہرحال متنا ہی اور اللہ تعالیٰ کے کلمات اور اللہ تعالیٰ کی معلومات غیر متناہی ہیں اور متناہی غیر متناہی کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

یہود نے یہ اعتراض کیا تھا کہ تم یہ کہتے ہیں کہ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکمت دی گئی ہے اور تمہارے قرآن میں ہے :

ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً (البقرہ :269) اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی۔

پھر تم یہ کیوں کہتے ہو کہ تم کو بہت کم علم دیا گیا ہے وما اوتیتم من العلم الاقلیلا (بنی اسرائیل :85) اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیر کثیر دی گئی ہے اور آپ کا علم بہت عظیم ہے۔ تمام مخلوق کا علم آپ کے علم کے مقابلہ میں ایک قطرہ ہے اور آپ کا علم تمام مخلوق کے مقابلہ میں سمندر رہے، لیکن آپ کا علم اللہ کے مقابلہ میں اس طرح بھی نہیں ہے جیسے قطرہ سمندر کے سامنے ہو کیونکہ قطرہ کی نسبت سمندر کی طرف متناہی کی نسبت متناہی کی طرف ہے اور آپ کے علم کی نسبت اللہ کے علم کی طرف متناہی کی نسبت غیر متناہی کی طرف ہے۔ اس کی نظیر یہ ہے :

(لقمان :27) اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں پھر بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ بیشک اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 109