حدیث نمبر 290

روایت ہے حضرت ابی بن کعب سے فرماتے ہیں ایک دن ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا کیا فلاں حاضر ہے لوگوں نے عرض کیا نہیں فرمایا کیا فلاں حاضر ہے لوگوں نے عرض کیا نہیں ۱؎ فرمایا یہ دونوں نمازیں منافقوں پر دوسری نمازوں سے بھاری ہیں ۲؎ اور اگر تم جانتے کہ ان میں کیا ثواب ہے تو گھٹنوں پر گھسٹتے ہوئے بھی ان میں پہنچتے ۳؎ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے ۴؎ اور اگر جانتے کہ اس کی بزرگی کیا ہے تو اس میں جلدی کرتے اور مرد کی نماز ایک مرد کے ساتھ اکیلے نماز سے بہتر ہے اور دو مردوں کے ساتھ نماز ایک مرد کے ساتھ کی نماز سے بہتر ہے جس قدر لوگ زیادہ ہوں اسی قدر خدا کو پیارے ہیں ۵؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سلطان کا اپنی رعایا کی،شیخ کا مریدین کی،استاذ کا شاگردوں کی،حاکم کا ماتحتوں کی نگرانی کرنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ بعض مدرسوں میں طلباء کی مدرسہ اور نماز میں حاضری لی جاتی ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے۔تیسرے یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پوچھنا اپنی بے علمی کی وجہ سے نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو علی مرتضٰی سے فرمایا تھا کہ فلاں باغ میں ایک عورت ہے اس کے پاس ایک خط ہے وہ لے آؤ یا اس پہاڑ کے پیچھے ایک حبشی پانی لے کر جارہا ہے اسے پکڑ لاؤ یا ان دو قبروں میں چغل خور اور چرواہا مدفون ہیں وہ فلاں فلاں گناہ کرتے تھے اس لئے وہ عذا ب میں گرفتار ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے کوئی شے مخفی نہیں، یہ تحقیقات حاضرین کو آئندہ متنبہ کرنے اور غائبین کو حاضر کرنے کے لیے ہے تاکہ کوئی جماعت سے غیر حاضرنہ رہے۱۲

۲؎ فجر وعشاء کی نمازیں خصوصًا جماعت کے ساتھ۔معلوم ہوا کہ یہاں روئے سخن منافقوں کی طرف ہے کوئی صحابی بغیر سخت مجبوری جماعت سے غیر حاضر نہ ہوتے تھے۔خیال رہے کہ منافقین پر ظاہری کلمہ خوانی کی وجہ سے شرعی احکام جاری تھے اس لیے انہیں جماعت وغیرہ چھوڑنے پر ملامت کی جاتی تھی جیسے کہ قرآن شریف میں ان پر جہادوں میں شرکت نہ کرنے پر سخت عتاب فرمایا گیا لہذا یہ حدیث پر اعتراض نہیں کہ منافق تو در پردہ کافر تھے ان پر نماز فرض ہی کب تھی۔

۳؎ یہاں خطاب قیامت تک کے مسلمانوں سے ہے نہ کہ صحابہ سے،صحابہ تو اس ثواب کو جانتے تھے اور بیماری کی حالت میں دو شخصوں کے کندھے کے سہارے مسجد میں پہنچتے تھے جیسا کہ آگے آرہا ہے ۱۲

۴؎ اﷲ سے قریب ہونے اور شیطان سے دور ہونے میں،مگر یہ مردوں کے لیے ہے عورتوں کی صف آخری افضل،کیونکہ مردوں سے دور ہوتی ہیں،اب مسجد نبوی شریف میں جو صف روضۂ مطہر سے زیادہ قریب ہوگی،افضل ہوگی۔ا س سے معلوم ہوا کہ اچھوں سے قرب بھی اچھا کیونکہ پہلی صف امام کے قرب کی وجہ سے افضل ہے 

۵؎ اس حدیث نے ان تمام احادیث کی شرح کردی جن میں مساجد اور جماعت کے ثواب مختلف ہیں۔جتنی بڑی جماعت اتنا بڑا ثواب۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک اور دو اگرچہ لغۃ ً جماعت نہیں مگر حکمًا جماعت ہیں۔ دو آدمی بھی الگ الگ نماز نہ پڑھیں، ہمارے بعض علماء فرماتے ہیں کہ محلے کی مسجد سے جامع افضل، ان کی دلیل یہ حدیث ہے مگر شرط یہ ہے کہ محلے کی مسجد ویران نہ ہوجائے۔

شرح