أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنِّىۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِىَ مِنۡ وَّرَآءِىۡ وَكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت داروں سے خطرہ ہے اور میری اہلیہ بانجھ ہے سو تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت داروں سے خطرہ ہے اور میری اہلیہ بانجھ ہے سو تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو، اور اے میرے رب اس کو پسندیدہ بنا دے (مریم :5-6)

انبیاء کے علم کا وارث بنایا جاتا ہے ان کے مال کا وارث نہیں بنایا جاتا 

زجاج نے کہا حضرت زکریا کے رشتہ دار دین دار نہیں تھے، ان کو خطرہ تھا کہ ان کی وفات کے بعد دین ضائع ہوجائے گا اس لئے انہوں نے اللہ سے ایسا وارث طلب کیا جو ان کے بعد دین کی حفاظت کرے اور دین کی اشاعت کرے اور یہی صحیح قول ہے۔ حضرت زکریا نے مال کے وارث کی دعا نہیں کی تھی کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے مال کا وارث نہیں بنایا جاتا بلکہ ان کے علم اور نبوت کا وارث بنایا جاتا ہے، حدیث میں ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا ہم نے جو چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6727 صحیح مسلم رقم الحدیث :1757، سنن ابودائود رقم الحدیث :2963، سنن الترمذی رقم الحدیث :1610، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :5013 مسند احمد رقم الحدیث :25083، عالم الکتب بیروت)

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جو شخص علم کی طلب میں کسی راستہ پر جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور طالب علم کی رضا کے لئے فرشتے اپنے پر رکھتے ہیں اور عالم کے لئے وہ سب استغفار کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اور مچھلیاں جو پانی کے اندر ہیں اور عالم کی فضیلت عابد پر اس طرح ہے جس طرح چودھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر ہے اور انبیاء دینار اور درہم کے وارث نہیں بناتے وہ علم کا وارث بناتے ہیں سو جس نے علم کو حاصل کیا اس نے بہت بڑے حصے کو حاصل کیا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :3641، سنن الترمذی رقم الحدیث، 2682، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :223) 

حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے حدیث میں ہے ہم گروہ انبیاء کا وارث نہیں بنایا جاتا ہم نے جو ترکہ چھوڑا وہ صدقہ ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج ہ ص 74، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ)

تاہم نحن معاشر الانبیاء کے الفاظ کسی حدیث میں نہیں ہیں۔ یہ صرف شراح اور علماء کی زبان پر ہیں حدیث لا تورث سے شروع ہوتی ہے، دیکھے صحیح البخاری رقم الحدیث :5358, 4033, 3094 صحیح مسلم رقم الحدیث :1787، سنن ابو دائود رقم الحدیث، 2963، سنن النسائی رقم الحدیث، 4159، مسند احمد رقم الحدیث :333، البتہ فتح الباری، زاد المسیر، اللئالی المصنوعتہ اور البدایہ میں یہ الفاظ ہیں نحن معاشر الانبیاء لاتورث۔

اثمہ شیعہ میں سے شیخ ابوجعفر محمد بن یعقوب کلینی متوفی 239 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عبداللہ بن جندب روایت کرتے ہیں کہ امام رضا (علیہ السلام) نے ان کو لکھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخلوق میں امین تھے اور جب آپ کا وصال ہوگیا تو ہم اہل بیت آپ کے وارث ہوئے ہمیں علم دیا گیا اور ہم کو جب علم دیا گیا تھا اور جس علم کو ہمارے پاس امانت رکھا گیا تھا ہم نے وہ علم پہنچا دیا سو ہم اولوالعزم رسولوں کے وارث ہیں۔

ابو جعفر (علیہ السلام) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، بیشک علی بن ابی طالب اللہ کی عطا ہیں اور وہ وصیوں کے علم کے وارث ہیں اور تمام پہلوں کے علم کے وارث ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سابقین انبیاء اور مرسلین کے علم کے وارث تھے۔

مفضل بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا، سلیمان، دائود کے وارث تھے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلیمان کے وارث تھے اور ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وارث ہیں۔ (الاصول من الکافی ج ۃ ص 223-225 مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران، 1365 ھ) 

انبیاء (علیہم السلام) کی وراثت کے مسئلہ میں ایک معرکتہ الاراء موضوع مسئلہ فدک ہے اس پر ہم نے سیر حاصل بحث شرح صحیح مسلم ج ٥ ص 388-422 میں کی ہے، اس بحث کا وہاں مطالعہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 5