حدیث نمبر 292

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مؤذن کی اذان سنے اور اس کی اطاعت سے کوئی عذر منع نہ کرے لوگوں نے کہا عذر کیا ہے فرمایا ڈر یا بیماری تو اس کی وہ نماز قبول نہ ہوگی جو گھر میں پڑھے ۱؎(ابوداؤد)اور دارقطنی۔

شرح

۱؎ ڈر سے مراد دشمن یا موذی جانور کا خوف ہے جو گھر یا مسجد کے درمیان حائل ہو۔مرض سے مراد وہ بیماری ہے جو مسجد میں آنے سے روکے،ان دونوں حالتوں میں گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے لیکن اگر کوئی ان صورتوں میں بھی بتکلف مسجد میں پہنچ جائے تو ثواب پائے گا جیسا کہ اگلی روایتوں میں آرہا ہے کہ صحابہ کبار سخت بیماری میں بھی دوسروں کے کندھوں پر مسجد میں آتے تھے،یہ عزیمت پر عمل تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تارک جماعت کی نماز شرعًا جائز ہوگی اگرچہ عنداﷲ قبول نہ ہو،نماز جمعہ وعیدین اکیلے جائز ہی نہیں ان کے لیے جماعت شرطِ جوازہے۔