وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۚ-فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْــٴَـلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّؕ-اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ(۵۰)

اور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا (ف۱۳۰) کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ (ف۱۳۱) کیا حال ہے اوران عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بےشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے (ف۱۳۲)

(ف130)

اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی خدمت میں بادشاہ کا پیام عرض کیا تو آپ نے ۔

(ف131)

یعنی اس سے درخواست کرکہ وہ پوچھے ، تفتیش کرے ۔

(ف132)

یہ آپ نے اس لئے فرمایا تاکہ بادشاہ کے سامنے آپ کی براءت اور بے گناہی معلوم ہو جائے اور یہ اس کو معلوم ہو کہ یہ قید طویل بے وجہ ہوئی تاکہ آئندہ حاسدوں کو نیش زنی کا موقع نہ ملے ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دفعِ تہمت میں کوشش کرنا ضروری ہے ۔ اب قاصد حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے پاس سے یہ پیام لے کر بادشاہ کی خدمت میں پہنچا ، بادشاہ نے سن کر عورتوں کو جمع کیا اور ان کے ساتھ عزیز کی عورت کو بھی ۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍؕ-قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْــٴٰـنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ٘-اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۵۱)

بادشاہ نے کہااے عورتو تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا جی(دل) لبھانا چاہا بولیں اللہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہ پائی عزیز کی عورت (ف۱۳۳) بولی اب اصلی بات کھل گئی میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بےشک سچے ہیں (ف۱۳۴)

(ف133)

زلیخا ۔

(ف134)

بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی ا ور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کر لیا اس پر حضرت ۔

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْۚ-اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْؕ-اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵۳)

اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بےشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳۶) بےشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)

(ف135)

زلیخا کے اقرار و اعتراف کے بعد حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے جو یہ فرمایا تھا کہ میں نے اپنی براءت کا اظہار اس لئے چاہا تھا تاکہ عزیز کو یہ معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی غَیبت میں اس کی خیانت نہیں کی ہے اور اس کے اہل کی حرمت خراب کرنے سے مُجتنِب رہا ہوں اور جو الزام مجھ پر لگائے گئے ہیں میں ان سے پاک ہوں ، اس کے بعد آپ کا خیال مبارک اس طرف گیا کہ اس میں اپنی طرف پاکی کی نسبت اور اپنی نیکی کا بیان ہے ایسا نہ ہو کہ اس میں شانِ خود بینی اور خود پسندی کا شائبہ بھی آئے ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی کی جناب میں تواضُع و انکسار سے عرض کیا کہ میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا ، مجھے اپنی بے گناہی پر ناز نہیں ہے اور میں گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار نہیں دیتا ، نفس کی جنس کا یہ حال ہے کہ ۔

(ف136)

یعنی اپنے جس مخصوص بندے کو اپنے کرم سے معصوم کرے تو اس کا برائیوں سے بچنا اللہ کے فضل و رحمت سے ہے اور معصوم کرنا اسی کا کرم ہے ۔

(ف137)

جب بادشاہ کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے علم اور آپ کی امانت کا حال معلوم ہوا اور وہ آپ کے حُسنِ صبر ، حُسنِ ادب ، قید خانے والوں کے ساتھ احسان ، محنتوں اور تکلیفوں پر ثبات و استقلا ل رکھنے پر مطّلع ہوا تو اس کے دل میں آپ کا بہت ہی عظیم اعتقاد پیدا ہوا ۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْۚ-فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ(۵۴)

اور بادشاہ بولا انہیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں خاص اپنے لیے چن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بےشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں (ف۱۳۹)

(ف138)

اور اپنا مخصوص بنا لوں چنانچہ اس نے معزّزین کی ایک جماعت ، بہترین سواریاں اور شاہانہ ساز و سامان اور نفیس لباس لے کر قید خانہ بھیجی تاکہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ ایوانِ شاہی میں لائیں ۔ ان لوگوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر بادشاہ کا پیام عرض کیا آپ نے قبول فرمایا اور قید خانہ سے نکلتے وقت قیدیوں کے لئے دعا فرمائی ، جب قید خانہ سے باہر تشریف لائے تو اس کے دروازہ پر لکھا یہ بلا کا گھر ، زندوں کی قبر اور دشمنوں کی بدگوئی اور سچوں کے امتحان کی جگہ ہے پھر غسل فرمایا اور پوشاک پہن کر ایوانِ شاہی کی طرف روانہ ہوئے جب قلعہ کے دروازہ پر پہنچے تو فرمایا میرا ربّ مجھے کافی ہے ، اس کی پناہ بڑی اور اس کی ثناء برتر اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر قلعہ میں داخل ہوئے ، بادشاہ کے سامنے پہنچے تو یہ دعا کی کہ یاربّ میرے ، تیرے فضل سے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور اس کی اور دوسروں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، جب بادشاہ سے نظر ملی تو آپ نے عربی میں سلام فرمایا، بادشاہ نے دریافت کیا یہ کیا زبان ہے ؟ فرمایا یہ میرے عَم حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی زبان ہے پھر آپ نے اس کو عبرانی زبان میں دعا کی ، اس نے دریافت کیا یہ کون زبان ہے ؟ فرمایا یہ میرے ابّا کی زبان ہے ، بادشاہ یہ دونوں زبانیں نہ سمجھ سکا باوجود یکہ وہ ستّر زبانیں جانتا تھا پھر اس نے حضرت سے جس زبان میں گفتگو کی آپ نے اسی زبان میں اس کو جواب دیا ، اس وقت آپ کی عمر شریف تیس سال کی تھی اس عمر میں یہ وسعتِ علوم دیکھ کر بادشاہ کو بہت حیرت ہوئی اور اس نے آپ کو اپنے برابر جگہ دی ۔

(ف139)

بادشاہ نے درخواست کی کہ حضرت اس کے خواب کی تعبیر اپنے زبانِ مبارک سے سناویں ، حضرت نے اس خواب کی پوری تفصیل بھی سنا دی ۔ جس جس شان سے کہ اس نے دیکھا تھا باوجود یکہ آپ سے یہ خواب پہلے مجملاً بیان کیا گیا تھا اس پر بادشاہ کو بہت تعجب ہوا ، کہنے لگا کہ آپ نے میرا خواب ہو بہو بیان فرما دیا خواب تو عجیب تھا ہی مگر آپ کا اس طرح بیان فرما دینا اس سے بھی زیادہ عجیب تر ہے ، اب تعبیر ارشاد ہو جائے ، آپ نے تعبیر بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اب لازم یہ ہے کہ غلّے جمع کئے جائیں اور ان فراخی کے سالوں میں کثرت سے کاشت کرائی جائے اور غلّے مع بالوں کے محفوظ رکھے جائیں اور رعایا کی پیداوار میں سے خُمس لیا جائے ، اس سے جو جمع ہوگا وہ مِصر و حوالیٔ مِصر کے باشندوں کے لئے کافی ہوگا اور پھر خَلقِ خدا ہر ہر طرف سے تیرے پاس غلّہ خریدنے آئے گی اور تیرے یہاں اتنے خزائن و اموال جمع ہوں گے جو تجھ سے پہلوں کے لئے جمع نہ ہوئے ۔ بادشاہ نے کہا یہ انتظام کون کرے گا ۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ(۵۵)

یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بےشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱۴۰)

(ف140)

یعنی اپنی قلمرو کے تمام خزانے میرے سپرد کر دے ، بادشاہ نے کہا آپ سے زیادہ اس کا مستحق اور کون ہو سکتا ہے اور اس نے اس کو منظور کیا ۔

مسائل : احادیث میں طلبِ اَمارت کی ممانعت آئی ہے ، اس کے یہ معنی ہیں کہ جب مُلک میں اہل موجود ہوں اور اقامتِ اَحکامِ الٰہی کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہ ہو اس وقت اَمارت طلب کرنا مکروہ ہے لیکن جب ایک ہی شخص اہل ہو تو اس کو احکامِ الٰہیہ کی اقامت کے لئے اَمارت طلب کرنا جائز بلکہ واجب ہے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام اسی حال میں تھے آپ رسول تھے ، امّت کے مصالح کے عالِم تھے ، یہ جانتے تھے کہ قحطِ شدید ہونے والا ہے جس میں خَلق کو راحت و آسائش پہنچانے کی یہی سبیل ہے کہ عنانِ حکومت کو آپ اپنے ہاتھ میں لیں اس لئے آپ نے اَمارت طلب فرمائی ۔

مسئلہ : ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدے قبول کرنا بہ نیتِ اقامتِ عدل جائز ہے ۔

مسئلہ : اگر احکامِ دین کا اجراء کافِر یا فاسق بادشاہ کی تمکین کے بغیر نہ ہو سکے تو اس میں اس سے مدد لینا جائز ہے ۔

مسئلہ : اپنی خوبیوں کا بیان تفاخُر و تکبّر کے لئے ناجائز ہے لیکن دوسروں کو نفع پہنچانے یا خَلق کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے اگر اظہار کی ضرورت پیش آئے تو ممنوع نہیں اسی لئے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بادشاہ سے فرمایا کہ میں حفاظت و علم والا ہوں ۔

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِۚ-یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُؕ-نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

اور یونہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱۴۱) ہم اپنی رحمت (ف۱۴۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ(اَجر) ضائع نہیں کرتے

(ف141)

سب ان کے تحتِ تصرّف ہے ۔ اَمارت طلب کرنے کے ایک سال بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو بلا کر آپ کی تاج پوشی کی اور تلوار اور مُہر آپ کے سامنے پیش کی اور آپ کو طلائی تخت پر تخت نشین کیا جو جواہرات سے مُرصّع تھا اور اپنا مُلک آپ کو تفویض کیا اور قطفیر (عزیزِ مصر ) کو معزول کر کے آپ کو اس کی جگہ والی بنایا اور تمام خزائن آپ کو تفویض کئے اور سلطنت کے تمام امور آپ کے ہاتھ میں دے دیئے اور خود مثل تابع کے ہوگیا کہ آپ کی رائے میں دخل نہ دیتا اور آپ کے ہر حکم کو مانتا ، اسی زمانہ میں عزیزِ مصر کا انتقال ہو گیا ۔ بادشاہ نے اس کے انتقال کے بعد زلیخا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ کر دیا ، جب یوسف علیہ ا لصلٰوۃ و السلام زلیخا کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے جو تو چاہتی تھی ؟ زلیخا نے عرض کیا اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجئے میں خوبرو تھی ، نوجوا ن تھی ، عیش میں تھی اور عزیزِ مِصر عورتوں سے سروکار ہی نہ رکھتا تھا اور آپ کو اللہ تعالٰی نے یہ حسن و جمال عطا کیا ہے ، میرا دل اختیار سے باہر ہو گیا اور اللہ تعالٰی نے آپ کو معصوم کیا ہے ، آپ محفوظ رہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے زلیخا کو باکرہ پایا اور اس سے آپ کے دو فرزند ہوئے افراثیم اور میثا اور مِصر میں آپ کی حکومت مضبوط ہوئی ، آپ نے عدل کی بنیادیں قائم کیں ، ہر زن و مرد کے دل میں آپ کی مَحبت پیدا ہوئی اور آپ نے قحط سالی کے ایّام کے لئے غلّوں کے ذخیرے جمع کرنے کی تدبیر فرمائی ۔ اس کے لئے بہت وسیع اور عالی شان انبار خانے تعمیر فرمائے اور بہت کثیر ذخائر جمع کئے ، جب فراخی کے سال گزر گئے اور قحط کا زمانہ آیا تو آپ نے بادشاہ اور اس کے خدم کے لئے روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا مقرر فرما دیا ، ایک روز دوپہر کے وقت بادشاہ نے حضرت سے بھوک کی شکایت کی ، آپ نے فرمایا یہ قحط کی ابتداء کا وقت ہے پہلے سال میں لوگوں کے پاس جو ذخیرے تھے سب ختم ہوگئے ، بازار خالی رہ گئے ۔ اہلِ مِصر حضرت یوسف علیہ السلام سے جنس خریدنے لگے اور ان کے تمام درہم دینار آپ کے پاس آ گئے ۔ دوسرے سال زیور اور جواہرات سے غلّہ خریدے اور وہ تمام آپ کے پاس آگئے ، لوگوں کے پاس زیور و جواہر کی قسم سے کوئی چیز نہ رہی ۔ تیسرے سال چوپائے اور جانور دے کر غلّے خریدے اور مُلک میں کوئی کسی جانور کا مالک نہ رہا ۔ چوتھے سال میں غلّے کے لئے تمام غلام اور باندیاں بیچ ڈالیں ۔ پانچویں سال تمام اراضی و عملہ و جاگیریں فروخت کر کے حضرت سے غلّہ خریدا اور یہ تمام چیزیں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ گئیں ۔ چھٹے سال جب کچھ نہ رہا تو انہوں نے اپنی اولادیں بیچیں ، اس طرح غلّے خرید کر وقت گذارا ۔ ساتویں سال وہ لوگ خود بک گئے اور غلام بن گئے اور مِصر میں کوئی آزاد مرد و عورت باقی نہ رہا ، جو مرد تھا وہ حضرت یوسف علیہ السلام کا غلام تھا ، جو عورت تھی وہ آپ کی کنیز تھی اور لوگوں کی زبان پر تھا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی سی عظمت و جلالت کبھی کسی بادشاہ کو میسّر نہ آئی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے کہا کہ تو نے دیکھا اللہ کا مجھ پر کیسا کرم ہے ، اس نے مجھ پر ایسا احسانِ عظیم فرمایا اب ان کے حق میں تیری کیا رائے ہے ؟ بادشاہ نے کہا جو حضرت کی رائے اور ہم آپ کے تابع ہیں ۔ آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے تمام اہلِ مِصرکو آزاد کیا اور ان کے تمام املاک اور کل جاگیریں واپس کیں ۔ اس زمانہ میں حضرت نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں ملاحظہ فرمایا ، آپ سے عرض کیا گیا کہ اتنے عظیم خزانوں کے مالک ہو کر آپ بھوکے رہتے ہیں ؟ فرمایا اس اندیشہ سے کہ سیر ہو جاؤں تو کہیں بھوکوں کو نہ بھول جاؤں ، سبحان اللہ کیا پاکیزہ اخلاق ہیں ۔ مفسِّرین فرماتے ہیں کہ مِصر کے تمام زن و مرد کو حضرت یوسف علیہ السلام کے خریدے ہوئے غلام اور کنیزیں بنانے میں اللہ تعالٰی کی یہ حکمت تھی کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ حضرت یوسف علیہ السلام غلام کی شان میں آئے تھے اور مِصر کے ایک شخص کے خریدے ہوئے ہیں بلکہ سب مِصری ان کے خریدے اور آزاد کئے ہوئے غلام ہوں اور حضرت یوسف علیہ السلام نے جو اس حالت میں صبر کیا اس کی یہ جزا دی گئی ۔

(ف142)

یعنی مُلک و دولت یا نبوّت ۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠(۵۷)

اور بےشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱۴۳)

(ف143)

اس سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے لئے آخرت کا اجر و ثواب اس سے بہت زیادہ افضل و اعلٰی ہے جو اللہ تعالٰی نے انہیں دنیا میں عطا فرمایا ۔ ابنِ عینیہ نے کہا کہ مومن اپنی نیکیوں کا ثمرہ دنیا و آخرت دونوں میں پاتا ہے اور کافِر جو کچھ پاتا ہے دنیا ہی میں پاتا ہے ، آخرت میں اس کو کوئی حصّہ نہیں ۔ مفسِّرین نے بیان کیا ہے کہ جب قحط کی شدّت ہوئی اور بلائے عظیم عام ہوگئی ، تمام بِلاد و اَمصار قحط کی سخت تر مصیبت میں مبتلا ہوئے اور ہر جانب سے لوگ غلّہ خریدنے کے لئے مِصر پہنچنے لگے ، حضرت یوسف علیہ السلام کسی کو ایک اونٹ کے بار سے زیادہ غلّہ نہیں دیتے تاکہ مساوات رہے اور سب کی مصیبت رفع ہو ، قحط کی جیسی مصیبت مِصر اور تمام بلاد میں آئی ایسی ہی کنعان میں بھی آئی ، اس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کے سوا اپنے دسوں بیٹوں کو غلّہ خریدنے مِصر بھیجا ۔