۷۹۔ عن أبی ذر الغفاری رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: یَا أبَا ذَرْ ! تَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ شَیَاطِیْنِ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ ، قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَلِلْاِنْسِ شَیَاطِیْنُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر ! اللہ کی پناہ چاہو انسانوں اور جنات کے شیطانوں سے ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا انسانوں میں سے بھی شیطان ہوتے ہیں ؟ فرمایا : ہاں ۔ فتاوی رضویہ جدید ۱/۷۸۰

]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

ہمارے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جوامع الکلم عطا فرمائے گئے مختصر لفظ فرمائیں اور معانی ٔ کثیرہ پر مشتمل ہوں ۔شیطان دو قسم ہیں۔

(۱)شیاطین الجن ،کہ ابلیس لعین اور اسکی اولاد ملاعین ہیں ۔اعاذنااللہ تعالیٰ والمسلمین من شرہم و شر الشیاطین اجمعین ۔

اے اللہ ! ہم کو اور تمام مسلمانوں کو انکے شر اور تمام شیاطین کے شر سے پناہ دے۔

(۲) شیاطین الانس،کہ کفار و مبتدعین کے داعی و منادی ہیں ۔ لعنہم اللہ و خذلہم اللہ ابدا ونصرنا علیہم نصرا مؤبدا ۔آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اجمعین ۔ آمین

ہمارا رب عزوجل فرماتا ہے

وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِی بَعْضُہُمْ اِلیٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا۔

یونہی ہم نے ہر نبی کا دشمن کیا شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کو ،آپس میں

ایک دوسرے کے دل میں بناوٹ کی بات ڈالتے ہیں وھوکا دینے کیلئے ائمہ دین فرمایا کرتے : شیطان آدمی شیطان جن سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔آیت کریمہ میں ’’ شیاطین الانس ‘‘ کی تقدیم بھی اسی طرف مشیر، ایک حدیث پاک میں ہیکہ ’’ جب شیطان وسوسہ ڈالے اتنا کہہ کر الگ ہوجائو کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘دونوں قسم کے شیطانوں کا علاج فرمادیا ۔شیطان آدمی ہو خواہ جن اسکا قابو اسی وقت تک چلتا ہے جب تک اسکی سنیئے ۔اور تنکا ٹوڑ کر ہاتھ پر رکھدیجئے کہ تو جھوٹا ہے خبیث اپنا سامنہ لیکر رہ جاتاہے ۔

آج کل ہمارے عوام بھائیوں کی سخت جہالت یہ ہے کہ کسی آریہ نے اشتہار دیا کہ اسلام کے فلاں مضمون کے رد میں فلاں وقت میں لکچر دیا جائیگا ۔یہ سننے کیلئے دوڑے چلے جاتے ہیں ۔ کسی پادری نے اعلان کیاکہ نصرانیت کے فلاں مضمون کے ثبوت میں فلاں وقت ندا ہوگی یہ سننے کیلئے دوڑے چلے جاتے ہیں

بھائیو! تم اپنے نفع و نقصان کو زیادہ جانتے ہو ،یا تمہار ا رب عزوجل اور تمہارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ؟ انکا حکم تو یہ ہے کہ شیطان تمہارے پاس وسوسہ ڈالنے آئے تو سیدھا جواب دیدو کہ تو جھوٹا ہے ۔نہ یہ کہ تم آپ آپ دوڑ دوڑ کر انکے پاس جائو اور اپنے رب عزوجل، اپنے قرآن، اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں کلمات ملعونہ سنو۔

یہ آیت جو ابھی تلاوت ہوئی اسی کا تتمہ اور اسکے متصل کی آیات کریمہ تلاوت کرتے جائو دیکھو قرآن کریم تمہاری اس حرکت کی کیسی کیسی شناعتیں بتاتا اور ان ناپاک لکچروں ندائوںکی نسبت تمہیں کیا کیا ہدایت فرماتا ہے ۔ آیت کریمہ مذکورہ کے تتمہ میں ارشاد ہوتا ہے ۔

وَ لَوْ شَائَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہٗ فَذَرْہُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ ۔

اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی باتیں نہ بناتے پھرتے،تو تو انہیں اور انکے بہتانوں کو یک لخت چھوڑ دے ۔

دیکھو! انہیں اور انکی باتوں کو چھوڑنیکا حکم فرمایا : یاانکے پاس سننے کیلئے دوڑنے کا ۔

اور سنئے !اسکے بعد کی آیت میں فرماتا ہے ۔

وَ لِتَصْغیٰ اِلَیْہِ أفْئِدَۃُ الذِّیْنَ لاَ یُؤمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَ لِیَرْضَوْہٗ وَ لِیَقْتَرِفُوا مَاہُمْ مُقْتَرِفُوْنَ ۔

اور اس لئے کہ ان کے دل اسکی طرف کان لگائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں و ہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں ۔

دیکھو!انکی باتوں کی طرف کان لگانا ان کا کام بتایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے،اور اسکا نتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی ان جیسے ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ ۔

لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر انکا کیا اثر ہوگا حالانکہ حدیث شریف میںاس طرح کے دجالوں سے دور بھاگنے کی تعلیم گذر چکی ۔

اور سنئے ! اسکے بعد کی آیات میں فرماتا ہے ۔

أفَغَیْرَ اللّٰہِ أبْتَغِی حَکَماً وَّ ہُوَ الذِّیْ أنْزَلَ اِلَیْکُمْ الْکِتٰبَ مُفَصَّلًا وَّ الذِّیْنَ آتَیْنٰہُمْ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ وَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقاً وَّ عَدْلاً، لاَمُبْدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔وَ اِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْأرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنْ یَّتَبِعُوْنَ اِلاّ الظَّنَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ۔ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَ ہُوَ أعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ ۔

تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اتاری ، اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کیساتھ اتری تو خبردار! تو شک نہ کرنا ۔

اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں کامل ہے کوئی اسکی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوااور دانا ہے ۔

اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو انکی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکادیں ۔وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں ۔

بیشک تیرارب خوب جانتا ہے کہ کون اسکی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانیوالوں کو ۔

یہ تمام آیات کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ ٔبیان میں ہیں ۔ گویا ارشاد ہوتا ہے :تم جوان شیطان آدمیوں کی باتیں سننے جائو کیا تمہیں تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ منادی یا لکچرار کیا فیصلہ کرتا ہے ؟ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا ہے ،اس نے مفصل کتاب قرآن عظیم تمہیں عطا فرمادی ۔اسکے بعد تم کو کسی لکچر یا ندا کی کیا حاجت ہے ۔

لکچر والے جو کسی کتاب دینی کانا م نہیں لیتے کس گنتی شمار میں ہیں ۔یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے ۔تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکر جاتے ہیں ۔تو تجھے کیوں شک ہوا کہ تو انکی سننا چاہے ۔ تیرے رب کا کلام صدق و عدل میں بھرپور ہے ۔ کل تک جو تجھے اس پر کامل یقین تھا آج کیا اس میں فرق آیا کہ اس پر اعتراض سنا چاہتاہے ۔کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے۔یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال کوئی خیال خدا سے چھپ رہے گا ۔ وہ سنتا جانتا ہے ۔

دیکھ!اگر تو نے انکی سنی تووہ تجھے خدا کی راہ سے بہکادیں گے ۔ یہ خیال کرتا ہے کہ انکا علم دیکھوں انکا علم کہاں تک ہے ۔ یہ کیا کہتے ہیںارے انکے پاس علم کہاں ۔ وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں ۔جنکا تھل نہ بیڑا۔

جب اللہ تعالیٰ واحد قہار کی گواہی ہیکہ ان کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سواکچھ نہیں تو انکے سننے کے کیا معنی ۔ سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاکہ :’’ کذبت‘‘ شیطان تو جھوٹا ہے اور اس گھمنڈمیں نہ رہنا کہ مجھے کیا گمراہ کریں گے میںتو راہ پر ہوں ۔تیرا رب خوب جانتاہے کہ کون اسکی راہ سے بہکے گا اور کون راہ پر ہے ۔تو پورا راہ پر ہوتا تو بے راہوں کی سننے ہی کیوں جاتا ۔

حالانکہ تیرا رب فرماچکا۔

ذَرْہُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ ۔چھوڑ دے انہیں اور انکے بہتانوں کو تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماچکے ۔

ایاکم وا یاہم ۔ ان سے دور رہو اور انکو اپنے سے دور رکھو۔ فتاوی رضویہ جدید ۱/۷۸۳

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۷۹۔ المسند لاحمد بن حنبل ، ۵/۱۷۸ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۸/۳۱۹

الدرا لمنثور للسیوطی، ۳/۳۹ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی، ۱/۱۶۰

التفسیر لابن کثیر، ۳/۳۱۲ ٭