حدیث نمبر 297

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا اگر گھروں میں عورتیں بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء قائم کرتا اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں کی چیزوں کو آگ سے جلادیں ۱؎(احمد)

شرح

۱؎ اس طرح کہ مسجد میں نہ آنے والوں کے گھروں میں آگ لگادیں، اس کی شرح پہلے گزر چکی۔ خیال رہے کہ اگر ایسا واقعہ ہوتو جن نوجوانوں کو سرکار عالی صلی اللہ علیہ وسلم آگ لگانے بھیجتے ان پر نماز معاف ہوتی کیونکہ نجات تو حکم عالی کی اطاعت میں ہے۔ جماعت کا حکم دیں تو جماعت واجب،اگر جماعت چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑنا واجب قسم رب کی اگر وہ ترک نماز سے راضی ہیں تو ترک نماز عبادت ہے اور اگر کسی کی نماز سے ناراض ہیں تو اس کے لیے وہ نماز حرام،مولیٰنا فرماتے ہیں شعر

ہر چہ گیر و علتی علت شود کفر گیرو ملتے ملت شود

اس کی نہایت نفیس اور لذیذتحقیق ہماری کتاب سلطنت”مصطفے ٰ”میں دیکھو۔