حدیث نمبر 308

روایت ہے حضرت مجاہد سے وہ حضرت عبداﷲ ابن عمر سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے گھر والوں کو مسجدوں میں آنے سے ہر گز نہ روکے تو عبدا ﷲ ابن عمر کے بیٹے نے کہا ہم تو انہیں روکیں گے تو حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بتاتا ہوں اور تو یہ کہتا ہے،فرماتے ہیں کہ ان سے حضرت عبداﷲ نے مرتے دم تک کلام نہ کیا ۱؎(احمد)

شرح

۱؎ اس کی شرح ابھی گزر چکی،اس سے معلوم ہوا ہے کہ صحابہ کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی محبت تھی کہ ایک گستاخی کے شائبہ پر اپنے لخت جگر کو ہمیشہ کے لیئے چھوڑ دیا۔افسوس ہے ان لوگوں پر جو دین کے مقابلہ میں کسی دیندار کی مروت کریں۔بعض بے ادب کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ حدیث کے مقابل قیاس اور رائے کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو اہل الرائے کہتے ہیں۔ وہ جھوٹے اور کذاب ہیں۔ امام اعظم کا فرمان ہے کہ حدیث ضعیف بھی رائے اور قیاس پر مقدم ہے۔چنانچہ وہ اولًا قرآن کو لیتے ہیں،پھر حدیث کو پھر اقوال صحابہ کو، اگر صحابہ میں اختلاف ہو تو جن صحابی کا قول کتاب و سنت سے قریب ہو اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر احادیث میں اختلاف نظر آئے تو قیاس کے ذریعہ کسی حدیث کو ترجیح دیتے ہیں،یعنی قیاس پر عمل نہیں کرتے بلکہ حدیث کی مدد سے حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اگر اس کی تحقیق دیکھنا ہو تو اس جگہ پر مرقاۃ دیکھو۔