حدیث نمبر 307

اور سالم کی روایت میں اپنے والد سے ۱؎ یوں ہے کہ فرمایا تب عبد اللہ ان پر متوجہ ہوئے اورا نہیں ایسی گالی دی جیسی گالی دیتے انہیں کبھی نہ سنا تھا۲؎ اور فرمایا کہ میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دیتا ہوں اورتو کہتا ہے کہ خداکی قسم ہم تو انہیں منع کریں گے۳؎(مسلم)

شرح

۱؎ حضرت سالم بھی عبداﷲ ابن عمر کے بیٹے اور بلال ابن عبداﷲ کے بھائی ہیں ۱۲ 

۲؎ یعنی انہیں بہت برا بھلا کہا۔یہاں گالی سے یہی مراد ہے نہ کہ ماں بہن کی فحش گالی کہ وہ تو عامۃ المسلمین کی شان کے خلاف ہے،چہ جائیکہ صحابی،حدیث شریف میں ہے "لَاتَسُبُّوالدَّھْرَ” زمانہ کو گالی نہ دو یعنی اسے برا نہ کہو۔

۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے موقعہ پر اپنی رائے پیش کرنا بے ادبی ہے تم نے یہ بے ادبی کیوں کی۔اس جگہ مرقاۃ اور شرح فقہ اکبر میں ہے کہ امام ابو یوسف نے تلوار سونت لی اور فرمایا دوبارہ ایمان لاؤ ورنہ تجھے قتل کروں گا۔معلوم ہوا کہ ایسی صحیح بات کہنا بھی بے ادبی ہے جس میں حدیث شریف کے مقابلے کی بو پائی جائے، جب حدیث کا یہ مطلب ہے تو سمجھ لو حدیث والے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا ادب ہوگا۔