دنیادار کی بات مفاد سے خالی نہیں

دنیا والے لوگوں کو کتنا بھی حسین خواب دکھا رہے ہوں انکے اپنے مفاد سے خالی نہیں،شھوت رانیوں کو زندگی کی بنیاد بنانے والے عورتوں کو آزادی کی راہ اسی لئے بتاتے ہیں کہ عورتیں انکے داوٗ میں آجائیں اور انکا اپنا خواب شرمندہٗ تعبیر ہو جائے،اور انہوں نے ایسی مکر و فریب میں بھری تعلیم کے ذریعہ کتنی عقل کو بنیاد بنانے والی عورتوں کو اپنے دام فریب میں پھانس ہی لیا اور انہیں آوارہ بنا کر دکانوں اور بازاروں کی زینت بنا کر دعوت نظارہ دے ہی دیا ، بھلا یہ کوئی عزت ہے؟جس ناموس کی حفاظت کو جان سے زیادہ درجہ دیا گیاتھا اسے اتنا سستا بنا دیا کہ ہر کوئی دیکھ رہا ہے ،اور لطف اندوز ہو رہا ہے،اب خود ہی فیصلہ کر لیں کہ لوگوں تمہاری وجہ سے دعوت نظارہ مل ہی چکی ہے تو اب باقی ہی کیا رہ گیا ہے؟قیمتی کو بے قیمت کردینا عقل ہے کہ حماقت؟مگر اس حماقت کو دھوکہ دیکر عقل و ہمدردی بتایا گیا

اسلام کا قانون سراپا عدل

الحاصل دنیا اپنے فیصلوں میں صد فیصد انصاف پر نہیں ہو سکتی وہ اللہ اور رسول کے فرمان کی خصوصیت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

ان اللہ لایظلم الناس شیئا،

بیشک اللہ تعالی تھوڑا بھی ظلم نہیں کرسکتا،

وما ربک بظلام للعبید

اور تمہارا رب بندوں کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں،

اس لئے کہ ظلم عیب ہے اور اللہ اس سے پاک ہے،اور ہمارے پیارے آقا و مولا ﷺ نے ارشاد فرمایا

لاتجدون بعدی رجلا ہو اعدل منی،

تم لوگ میرے بعد کسی کو نہ پاوٗ گے جو مجھ سے زیادہ انصاف پرور ہو،جب اللہ اور رسول کی یہ شان ہے کہ ان سے ناانصافی ہو نہیں سکتی تو انکا فرمان ہمیں مل جانے کے بعد عقل کے پیمانے پر ناپنے کا سوال ہی پیدا نہین ہوتا ،جس میں ناانصافی کا امکان ہو انکی باتوں کو عقل کے ترازو میں ناپا تولا جائے جو اس سے پاک ہیں انکی بات کو اس پیمانے پر لانا ایمان کا اقتضاء نہیں ہو سکتا ،اس لئے عورتوں کی ملی ہوئی عزت کی بحالی اسی میں ہے کہ اسلام کے خلاف کسی کی بھی بات نہ سونی جائے اور کسی بات میں کوئی ظاہری شبہ بطور وسوسہ آجائے تو ذی علم سے اسکا ازالہ کر لینا چاہیئے،جھالت کا اندھیرا آدمی کو ڈگمگائے تو علم کی روشنی اسکا فوری علاج کر لینا چاہیئے،دشمن ہمیں اندھیرے میں رکھ کر ہی کامیاب ہوتا ہے ہم کیوں اندھیرے میں رہ کر دشمن کو کامیاب ہونے کا موقع دیں؟ہمارے دیں نے ہماری ہر طرح رہنمائی فرما دی ہے ہم کیوں بھٹکیں؟