حدیث نمبر 305

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دو اور دو سے زیادہ جماعت ہیں ۱؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یعنی اگر کہیں دو مسلمان بھی ہوں تو ایک امام بن جائے اور ایک مقتدی جماعت کا ثواب پائیں گے کیونکہ یہ حکمًا جماعت ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر امام کے سوا دو آدمی ہوں تو امام آگے کھڑا ہو کیونکہ یہ جماعت کے حکم میں ہیں بہرحال یہاں جماعت مراد ہے نہ کہ حقیقی بعض علماء نے فرمایا کہ یہ حدیث میراث کے متعلق ہے کہ دو وارثوں کا حصہ تین چار کے برابر ہی ہوتا ہے،چنانچہ ایک بیٹی کا آدھا اور دو یا زیادہ کا حصہ دو تہائی ہے،بہرحال اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دو آدمیوں کی جماعت سے جمعہ یا عیدین ادا ہوجائیں،وہاں جماعت حقیقی درکار ہے یعنی امام کے سوا تین مقتدی۔