أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ ‌ۚ قَوۡلَ الۡحَـقِّ الَّذِىۡ فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

یہ عیسیٰ بن مریم ہیں، یہی حق بات ہے جس میں یہ شک کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ عیسیٰ بن مریم ہیں، یہی حق بات ہے جس میں یہ شک کرتے ہیں اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ پاک ہے، وہ جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس سے صرف یہ فرماتا ہے کہ ” ہوجا “ سو وہ ہوجاتا ہے (مریم :34-35)

حضرت عیسیٰ کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ میں اختلاف 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یہی حق بات ہے اس کے دو محمل ہیں ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ کا مریم کا بیٹا ہونا ہی حق بات ہے، یعنی وہ ابن اللہ نہیں ہیں، اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ جس کی یہ صفات بیان کی ہیں یہی عیسیٰ بن مریم ہیں اور یہ بات برحق ہے۔

اس کے بعد فرمایا جس میں یہ شک کرتے ہیں، جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھایا گیا تھا تو اس وقت ان کے اکابر علماء سے چار شخص موجود تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کون تھے تو ان چار میں سے ایک نے کہا وہ خود اللہ تھے جو زمین پر اتر آئے تھے۔ انہوں نے جس کو زندہ رکھا اس کو زندہ رکھا اور جس کو مار دیا اس کو مار دیا، پھر وہ آسمان پر چڑھ گئے۔ اس عقیدہ کے پیروکاروں کا نام یعقوبیہ ہے، باقی تینوں نے اس کو جھوٹا کہا، پھر ان باقی ماندہ میں سے ایک نے کہا ہو ابن اللہ تھے اور اس عقیدہ کے پیرو کار نسطوریہ ہیں اور باقی دو نے اس کو جھوٹا کہا، پھر باقی دو میں سے ایک نے کہا وہ تین میں کا تیسرا ہے، اللہ معبود ہے اور وہ یعنی عیسیٰ معبود ہے اور اس کی ماں مبعود ہے اور اس کے پیروکاروں کا نام اسرائیلیہ ہے یہ نصاریٰ کے بادشاہ ہیں پھر چوتھے نے اس کی تکذیب کی اور کہا بلکہ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں اور یہی مسلمان ہیں ان میں سے ہر ایک مختلف عقائد کے پیرو کار تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١ ۃ ص 32، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ ہونے پر دلائل 

اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اور اولاد سے اپنی برأت پر یہ دلیل قائم فرمائی کہ اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ پاک ہے، اللہ کے ولد سے پاک ہونے پر علماء نے جو دلائل قائم فرمائے ہیں ان میں سے بعض دلائل یہ ہیں :

(١) اگر اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ وہ بیٹا ازلی اور قدیم ہوگا یا حادث اور ممکن ہوگا، اگر وہ ازلی اور قدیم ہو تو یہ دو وجہ سے باطل ہے ایک وجہ یہ ہے کہ بیٹا باپ سے موخر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ازلی اور قدیم کیسے ہوسکتا ہے۔ ثانیاً اللہ تعالیٰ بھی قدیم ہو اور اس کا بیٹا بھی قدیم ہو تو اس سے تعدد قدماء اور تعدد و جباء لازم آئے گا اور یہ باطل ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہو اور وہ حادث اور ممکن ہو تو یہ بھی دو وجہ سے باطل ہے ایک اس وجہ سے کہ جب وہ حادث اور ممکن ہوگا تو پھر خدا نہیں ہوگا اور فرض یہ کیا ہے کہ وہ خدا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بیٹا باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ واجب اور قدیم ہے تو اس کا جو بیٹا فرض کیا گیا ہے وہ بھی واجب اور قدیم ہونا چاہیے اور جب بیٹے کو حادث اور مکن فرض کیا تو پھر وہ باپ کی جنس سے نہ رہا۔

(٢) دوسری دلیل لوگوں کے عام عرف اور عادت کے اعتبار سے ہے کہ جس کا بیٹا ہوتا ہے اس کی بیوی ہوتی ہے اور پھر کم و بیش نو ماہ بعد بیوی کے بطن سے بیٹا پیدا ہوتا ہے تو اگر اللہ کا بیٹا ہوتا تو کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کا بیٹیا وجود میں آتا جب کہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ جس چیز کا ارادہ فرماتا ہے اس کے وجود میں آنے میں کوئی دیر نہیں لگتی وہ اس چیز کے متعلق فرماتا ہے، ” ہوجا ‘ اور وہ ہوجاتی ہے۔

(٣) کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مملوک ہے اگر اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہوتا تو وہ بھی اللہ کا مملوک ہوتا حالانکہ بیٹا باپ کا مملوک اور غلام نہیں ہوتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 34