الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 296

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے صحابہ کو اس طرح دیکھا ہے کہ نماز کے پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق معلوم ہو یا بیمار ۱؎ بیمار بھی دو شخصوں کے درمیان چلتا حتی کہ نماز میں آتا ۲؎ آپ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنت ہدی سکھائیں اور سنت ہدی میں سے اس مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان ہو۳؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ کل اﷲ سے مسلمان ہو کر ملے تو وہ ان پانچ نمازوں پر وہاں پابندی کرے جہاں اذان دی جاتی ہے۴؎ کیونکہ اﷲ نے تمہارے نبی کے لیے سنت ہدی مشروع کیں اور یہ نمازیں بھی سنت ہدیٰ سے ہیں ۵؎ اور اگر تم اپنے گھر وں میں نماز پڑھ لیا کرو جیسے کہ یہ پیچھے رہنے والے گھر میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے اور اگر اپنے نبی کی سنت چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے ۶؎ ایسا کوئی شخص نہیں جو خوب طہارت کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا ارادہ کرے مگر اﷲ اس کے لیئے ہر قدم کے عوض جو ڈالتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے ۷؎ ہم نے اپنی جماعت کو دیکھا کہ نماز سے وہ منافق ہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معلوم ہو، بعض آدمیوں کو دو شخصوں کے درمیان لایا جاتا تھا حتی کہ صف میں کھڑا کیا جاتا ۸؎(مسلم)

شرح

۱؎ اس حدیث نے گزشتہ عتاب کی احادیث کو واضح کردیا کہ وہاں خطاب منافقوں سے تھا کیونکہ صحابہ نماز کبھی نہ چھوڑتے تھے۔مریض سے وہ بیمار مراد ہے جو کسی طرح مسجد میں نہ پہنچ سکے نہ چل کر نہ کسی کے کندھوں پر جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎ یہ صحابہ کا عزیمت پر عمل ہے کہ جن میں خود چلنے کی طاقت نہ ہوتی وہ دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس طرح مسجد میں آتے کہ پاؤ ں زمین پر گھسٹتے ہوتے جیسا کہ بعض احادیث میں صراحۃً آیا۔ ایسی حالت میں رخصت ہے کہ گھر پڑھ لے۔سبحان اﷲ!

۳؎ جو کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عادت کریمہ کے طور پر کئے وہ سنت زوائد ہیں جیسے بالوں میں کنگھی کرنا،کدو رغبت سے کھانا اور جو کام عبادۃً کئے وہ سنت ہدیٰ ہیں۔سنت ہدیٰ کی دو قسمیں ہیں:مؤکدہ اور غیر مؤکدہ ،جو کام حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیشہ کئے وہ مؤکدہ ہیں اور اگر ان کا حکم بھی دیا وہ واجب اور جو کام کبھی کبھی کئے وہ غیر مؤکدہ ہیں لہذا جماعت کی نماز اور مسجد میں حاضری،حق یہ ہے کہ دونوں واجب ہیں۔

۴؎ یعنی جہاں جماعت ہوتی ہے کیونکہ اذان جماعت ہی کے لیے ہوا کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد اور جماعت کی پابندی کرنے والے کو ان شاءاﷲ ایمان و تقویٰ پر خاتمہ نصیب ہوگا، یہ حدیث ان کے لیئے بڑی بشارت ہے۔

۵؎ یعنی پنجگانہ نمازیں مسجد میں باجماعت سنت ہدیٰ میں سے ہیں۔

۶؎ مرقاۃ وغیرہ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم گھروں میں باجماعت بھی نماز پڑھ لو تب بھی حاضری مسجد کی سنت کے تارک ہو۔ ھٰذَا الْمُتَخَلِّفُ میں کسی خاص منافق کی طرف اشارہ ہے جو تارک جماعت تھا۔ خیال رہے کہ جماعت واجب ہے،اسے یہاں سنت فرمانا اس لئے ہے کہ سنت سے ثابت ہے۔

۷؎ یہ خوش خبریاں اس کے لیے ہیں جو گھر سے وضو کرکے مسجد کو جائے اور بہتر یہ ہے کہ درود شریف پڑھتا یا کوئی اور ذکر کرتا ہوا جائے جیسا کہ “باب المساجد”میں عرض کیا جاچکا ہے۔

۸؎ اس کی شرح پہلے گزر گئی، صحابہ میں یہ عمل کیوں نہ ہوتا،انہوں نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بیماری کی حالت میں اس طرح مسجد میں آتے دیکھا تھا۔خیال رہے کہ عاشق کو محبوب کی ہر ادا پیاری ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے پیارے ہیں اور جماعت کی نماز، مسجد کی حاضری،مسواک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاری۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ اسے یہ چیزیں پیاری ہوں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے آخری کام مسواک کیا کہ مسواک کرکے جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔صلی اللہ علیہ وبارک وسلم۔