حکایت نمبر315: شریرجِنّ

حضرتِ سیِّدُنا عبدُالصَّمَد بن مَعْقَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ” میں نے حضرتِ سیِّدُنا وَہْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :” گذشتہ اُمتوں میں ایک شخص تھا ، اس کی بیٹی مرگی کے مرض میں مبتلا ہوگئی۔ بہت علاج کرایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ و ہ جس معالج کے متعلق بھی سنتا، اپنی بیٹی کو لے کر اس کے پاس پہنچ جاتا۔ لیکن اس کے علاج سے سب عاجز رہے۔بالآخر اُسے بتایا گیا کہ فلاں شخص اس وقت سب سے زیادہ متقی وپرہیزگار ہے، اگر اس کے پاس جاؤ تو تمہار ی مشکل حل ہو جائے گی۔ چنانچہ، وہ اپنی بیٹی کو لے کر اس کے پاس گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دے کر علاج کا سوال کیا اور بتایا کہ میں زمانے بھر کے طبیبوں اور عا ملوں سے ملا، لیکن کوئی بھی اس بیچاری کا علاج نہ کرسکا۔

اس نیک شخص نے دکھیارے باپ کی فریاد سنی تو کہا:” مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر میں نے تمہاری بیٹی کا علاج کردیا تو تم لوگو ں کو بتاؤگے، اس طر ح میری شہرت ہوجائے گی اور لوگ مجھے مصیبت میں مبتلا کر دیں گے۔” لڑکی کے باپ نے عہد کیا کہ میں ہر گز کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ چنانچہ، وہ نیک شخص علاج کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ در اصل ایک شریر جن نے لڑکی کے جسم میں داخل ہوکر اسے اذیَّت میں مبتلا کر رکھا تھا، نیک شخص نے عمل کیا اور شریر جن کو مخاطب کر کے کہا :” اس لڑکی کے جسم سے باہر نکل آ۔” جن نے کہا : ” ہر گز نہیں ! یہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اس کے جسم سے نکل کر تیرے جسم میں آجاؤ ں۔” نیک شخص نے کہا : ”ٹھیک ہے ! تو اسے چھوڑدے اور میرے جسم میں داخل ہوجا۔” چنانچہ جن لڑکی کوچھوڑ کر نیک شخص کے جسم میں داخل ہو گیا، اس نے دَم کر کے اپنے جسم کا حصار کیا اور تمام مَسام بند کر کے اسے اپنے جسم میں قید کرلیا ، پھر لڑکی کے والد سے کہا:” اپنی بیٹی کو لے جاؤ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے اب یہ ٹھیک ہوگئی ہے۔” اس نے کہا:”مجھے ڈر ہے کہ یہ شریر جن دو بارہ میری بیٹی کو تنگ کرنے نہ آجائے۔” تو نیک آدمی نے کہا:” جاؤ ! اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! اب کبھی بھی یہ اس کی طر ف نہ آئے گا۔” دُکھیارا باپ دعائیں دیتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا ۔شریر جن اس مردِ صالح کے جسم میں قید تھا ، اس نے پورے ہفتے مسلسل روزے رکھے اور راتیں عبادت وریاضت میں گزاریں ،ساتویں دن شریر جن نے اس سے کہا :” توکھاناوغیرہ کیوں نہیں کھاتاکہ تقویت حاصل ہو؟” کہا:”جلدی نہ کر!ابھی مجھے کھانے کی حاجت نہیں ۔”جن نے کہا:”پھرمجھے چھوڑدے تاکہ تیرے جسم سے نکل جاؤں۔” کہا:”ہرگزنہیں !اب تونہیں نکل سکتا۔”پھر نیک بندے نے مزیدایک ہفتہ روزے رکھے اورراتیں عبادت میں گزاریں اور نہ کچھ کھایانہ پیا۔جن نے کہا:توکوئی چیز کھاتا کیوں نہیں؟ کیا تو ا پنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتا ہے ؟” کہا: ” مجھے ابھی کھانے پینے کی حاجت نہیں ۔”جن نے کہا:” مجھے چھوڑدو تاکہ تمہارے جسم سے نکل جاؤ ں۔”کہا:” ہر گز نہیں۔” جن نے عاجز ہوکر کہا:”خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر تو نے مجھے اپنے جسم سے نہ نکلنے دیا تو بھوک وپیاس کی وجہ سے میں تمہارے جسم میں مرجاؤں گا اور تو بھی ہلاک ہوجائے گا ، خدا را! مجھے چھوڑ دے ۔”نیک شخص نے کہا:” مجھے خدشہ ہے کہ اگر میں نے تجھے چھوڑ دیا تو تُودوبارہ اس لڑکی کے پاس جاکر اسے تنگ کریگا۔” جن نے کہا: ”خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب میں کبھی بھی نہ اس لڑکی کے پاس جاؤں گا اور نہ ہی کسی اور انسان کی طر ف ، تو نے میرا جو حشر کیا ہے، اس کی وجہ سے انسان میرے نزدیک سب سے زیادہ خطرناک ہوچکا ہے، اب مجھے انسانوں سے ڈرلگنے لگا ہے ۔”جب نیک شخص نے جِنّ کی یہ باتیں سنیں تو اسے اپنے جسم سے نکلنے کا راستہ دے دیا ، جن فوراً بھاگ کھڑا ہوا اور پھر کسی انسان کو تنگ نہیں کیا بلکہ جب بھی کسی انسان کو دیکھتاتو ڈر کر بھاگ جاتا ۔(جنات کے بارے میں مزید معلومات کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے ”مکتبۃ المدینۃ”سے کتاب ”قوم جنات اور امیراہلسنّت”خرید فرماکر مطالعہ فرمائیں ۔ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ معلومات کا ڈھیروں خزانہ ہاتھ میں آئے گا۔)