حدیث نمبر 304

روایت ہے حضرت ابوبکر ابن سلیمان ابن ابی حثمہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے صبح کی نماز میں سلیمان ابن ابی حثمہ کو نہ پایا ۱؎ پھر جناب عمر بازار تشریف لے گئے سلیمان کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان تھا تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء پر گزرے ان سے فرمایا کہ میں نے سلیمان کو فجر میں نہ پایا ۲؎ وہ بولیں وہ تمام رات نماز پڑھتے رہے پھر ان کی آنکھ لگ گئی تو حضرت عمر نے فرمایا کہ میرا فجر کی جماعت میں حاضر ہوجانا تمام رات کھڑے رہنے سے مجھے زیادہ پیارا ہے۳؎(مالک)

شرح

۱؎ سلیمان مشہور تابعی ہیں،قرشی ہیں،عدوی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حاضرین مسجد کی تحقیق فرماتے تھے کہ کون نماز میں آیا اور کون نہیں۔

۲؎ کیا وہ بیمار ہیں یا کہیں سفر میں چلے گئے ہیں کیونکہ اس زمانہ میں کسی مسلمان کا جماعت میں نہ آنا اس کی بیماری یا سفر کی دلیل ہوتی تھی۔خیال رہے کہ حضرت شفاء کا نام لیلیٰ بنت عبداﷲ تھا،شفا ء لقب آپ مہاجرین اول میں سے تھیں بہت سے غزؤوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں دوپہر کا آرام فرمایا کرتے تھے۔

۳؎ کیونکہ جماعت خصوصًا فجر کی نماز جماعت اہم واجب ہے اور رات کی عبادت تہجد وغیرہ نفل، نفل کی وجہ سے واجب نہیں چھوڑنا چاہیئے۔مسلم شریف میں ہے کہ جو عشاء جماعت سے پڑھے،اس نے گویا آدھی رات عبادت کی اور جو فجر جماعت سے پڑھے اس نے گویا تمام رات عبادت کی اور ترمذی میں ہے کہ جو فجر و عشاء جماعت سے پڑھے اس نے گویا تمام رات عبادت کی،ترمذی کی روایت پہلی حدیث کی تفسیر ہے،عطا فرماتے ہیں کہ اگر تہجد کی وجہ سے فجر کی جماعت جائے تو تہجد چھوڑ دو۔