أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاتَّخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا ۖفَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ۞

ترجمہ:

سو انہوں نے لوگوں کی طرف سے ایک آڑ بنا لی، پس ہم نے ان کے پاس اپنے فرشتے کو بھجیا اس نے مریم کے سامنے ایک تندرست بشر کی شکل اختیار کرلی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو انہوں نے لوگوں کی طرف سے ایک آڑ بنا لی، پس ہم نے ان کے پاس ایک فرشتے کو بھجیا اس نے مریم کے سامنے ایک تندرست بشر کی شکل اختیار کرلی (مریم :17)

حضرت مریم کے پاس حضرت جبریل کا بشر کی صورت میں آنا 

جب حضرت مریم بیت المقدس کی مشرقی جگہ جا کر بیٹھ گئیں تو انہوں نے وہاں لوگوں کے سامنے سے ایک آڑ بنا لی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے ان کے پاس اپنی روح کو بھیجا، اس روح سے مراد حضرت جبریل ہیں اور قرآن مجید کی کئی آیتوں میں حضرت جبریل پر روح کا اطلاق کیا گیا ہے :

نزل بہ الروح الامین علی قلبک (الشعراء :193-194) تنزل الملآئکۃ و الروح فیھا (القدر : ٤) اس قرآن کو الروح الامین (جبریل) نے آپ کے قلب پر نازل کیا۔ لیلتہ القدر میں فرشتے اور روح (جبریل) نازل ہوتے ہیں۔

مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ حضرت جبریل کسی صورت میں ظاہر ہوئے تھے۔ بعض نے کہا وہ ایک خوب رو بےریش جو ان کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے، اور بعض نے کہا کہ بیت المقدس میں یوسف نام کا ایک خادم تھا اس کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے اور بشر کی شکل میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت میرم اس کو دیکھ کر خوف زدہ نہ ہوجائیں اور گھبرا نہ جائیں اور ان سے گفتگو کرسکیں۔

بعض علماء اس نظریہ کے قائل ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مادہ خلقت نور تھا اور بشریت آپ کا محض لباس تھا اور نور ہونا بشریت کے منافی نہیں ہے کیونکہ حضرت جبریل نور تھے اور حضرت مریم کے پاس بشری شکل میں آئے تھے، لیکن اس پر یہ کلام یہ کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تم ہی میں سے مبعوث کیا گیا ہے اور ہم نوع انسان سے ہیں اور بشر ہیں، عقیدہ کا مدار قطعی دلیل پر ہوتا ہے اور قرآن مجید میں یا کسی حدیث صحیح متواتر میں یہ وارد نہیں ہے کہ تحقیق کی ہے، البتہ قرآن مجید میں آپ پر نور کا اطلاق کیا گیا ہے اس سے مراد نور ہدایت ہے اور نور حسی سے بھی آپ کو وافر حصہ دیا گیا ہے۔ بشریٰ کثافتوں سے آپ منزہ تھے، آپ کے تمام فضلات طیب و طاہر تھے اور آپ کے دانتوں کی جھریوں سے نور کی طرح کوئی چیز نکلتی تھی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ نور حسی اور معنوی ہر ایک کی اصل ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ نبی صرف مردہ ہوتا ہے اور نور میں مرد اور عورت نہیں ہوتے اور نور حسی سے نور علم اور نور ہدایت افضل ہے۔ نور حسی جیسے چراغ اور سورج اندھیرا دور ہوتا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائق یہی نور ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 17