أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَحَمَلَـتۡهُ فَانْتَبَذَتۡ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا ۞

ترجمہ:

پس مریم کو اس کا حمل ہوگیا اور وہ اس حمل کے ساتھ دور جگہ پر چلی گئیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس مریم کو اس کا حمل ہوگیا اور وہ اس حمل کے ساتھ دور جگہ پر چلی گئیں (مریم :22)

حضرت مریم کے حمل کا سبب 

اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے حمل کی وجہ بیان فرمائی ہے :

(ومریم ابنت عمران التی احصنت فتوجھا و فتفخنارفیہ من روحنا (الحریم :12 اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پاک دامنی کی حفاظت کی تھی سو ہم نے اس کے چاک گریبان میں اپنے پاس سے روح پھونک دی۔

جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ونفخت فیہ من روحی (الحجر :29) ” اور میں نے آدم کے پتلے میں اپنے پاس سے روح پھونک دی، یہ روح خود اللہ تعالیٰ نے پھونکی تھی جیسا کہ اس آیت کا ظاہری معنی ہے یا حضرت جبریل نے کیونکہ انہوں نے کہا تھا تاکہ میں آپ کو پاکیزہ بیٹا دوں، وھب بن منبہ نے کہا حضرت جبریل نے حضرت مریم کے چاک سے پیدا ہوئے اور حضرت عیسیٰ بھی نفخ روح سے پیدا ہوئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمقل ادم (آل عمران :59) عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرف ہے۔

حضرت مریم کے حمل کی مدت 

حضرت مریم کے حمل اور وضح حمل کی مدت میں کئی اقوال ہیں اور اس کی مدت زیادہ طویل نہیں تھی، لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس وقت وضع حمل ہوگیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ اس حمل کے ساتھ دور جگہ پر چلی گئیں۔ جس بصری نے کہا اس میں 9 گھنٹے لگے۔ سعید بن جبیر نے کہا اس میں 9 ماہ لگے، زجاج نے کہا اس میں 8 ماہ لگے الماوردی نے کہا اس میں 6 ماہ لگے۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 219 مطبوعہ کتب اسلامی بیرنت 1412 ھ)

یوسف نجار کا تعاون 

علامہ ثعلبی نے العرائس میں وھب بن منبہ سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت مریم کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا حمل ہوا تو ان دنوں ان کے ساتھ ان کا غم زاد یوسف نجار رہتا تھا وہ دونوں اس مسجد میں جاتے تھے جو صھیون پہاڑ کے پاس تھی اور وہ دونوں اس مسجد کی خدمت کرتے تھے اور لوگوں کے نزدیک ان دونوں سے زیادہ مسجد کی خدمت اور مسجد میں عبادت کرنے والا اور کوئی نہیں تھا اور سب سے پہلے یوسف حضرت مریم کے حمل پر مطلع ہوا، وہ بہت حیران ہوا کہ حضرت مریم تو کبھی اس سے اوجھل نہیں ہوئی تھیں یہ حمل کیسے ہوگیا۔ بالآخر اس نے حضرت مریم سے کہا : اے مریم یہ بتائو کیا بغیر بیج ڈالے فصل اگ سکتی ہے، کیا بغیر بارش کے درخت پیدا ہوسکتے ہیں اور کیا بغیر مرد کے بچہ پیدا ہوسکتا ہے حضرت مریم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے پہلے درخت کو پیدا فرمایا تو کیا اس کو بغیر بیج کے پیدا نہیں کیا، کیا حضرت آدم کو بغیر مرد کے پیدا نہیں کیا۔ جب حضرت مریم نے یہ جواب دیا تو یوسف کے دل سے شک اور شبہ زائل ہوگیا اور چونکہ حمل کی وجہ سے حضرت مریم کمزور ہوگئی تھیں اور مشقت کے کام نہیں کرسکتی تھیں تو ان کے ذمہ جو کام تھے وہ بھی یوسف نجار کردیا کرتا تھا۔ (جامع البیان جز 16 ص 82, 81 تفسیر کبیرج ٧ ص 524-525)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 22