أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَنَادٰٮهَا مِنۡ تَحۡتِهَاۤ اَلَّا تَحۡزَنِىۡ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا ۞

ترجمہ:

پھر درخت کے نیچے سے (فرشتہ نے) ان کو آواز دی آپ پریشان نہ ہوں آپ کے رب نے آپ کے نیچے سے ایک نہر جاری کردی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر درخت کے نیچے سے (فرشتہ نے) ان کو آواز دی آپ پریشان نہ ہوں آپ کے رب نے آپ کے نیچے سے ایک نہر جاری کردی ہے اور آپ اس کھجور کے درخت کو اپنی طرف ہلائیں تو آپ کے اوپر ترو تازہ پکی کھجوریں گریں گی (25-24)

معاش کے حصول کے لئے کسب کرنا ضروری ہے 

حسن اور سعید بن جبیر نے کہا یہ نداء کرنے والے حضرت عیسیٰ تھے۔ عمرو بن میمون عودی نے کہا ایک فرشتہ نے ندا کی اور حضرت ابن عباس نے فرمایا جبریل نے ندا کی اور یہی ظاہر ہے امام ابن جریر کا بھی یہی مختار ہے، کیونکہ حضرت عیسیٰ نے اس وقت تک کلام نہیں کیا تھا جب تک کہ وہ قوم کے پاس نہیں گئی تھیں۔ حسن اور عبدالرحمٰن بن زید کا مختاریہ ہے کہ سری سے مراد نہر ہے کیونکہ اس میں پانی جاری رہتا ہے۔

اس سے پہلے ہم بتا چکے ہیں کہ وہ سردی کا موسم تھا اور روہ درخت سوکھا ہوا تھا۔ اس میں اختلاف ہے کہ اس درخت سے اسی حال میں ترو تازہ پکی کھجوریں گرنے لگی تھیں یا پہلے وہ درخت سرسبز ہوا اور پھر اس سے کھجوریں گرنے لگیں۔ ہرحال میں یہ حضرت مریم کی کرامت ہے جیسے ان کے پاس بچپن میں بےموسمی پھل آتے تھے یہاں بھی ان پر بےموسمی کھجوریں گرنے لگیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے یہ فرمایا ہے کہ آپ اس کھجور کو اپنی طرف ہلائیں تو آپ کے اوپر تروتازہ پکی کھجوریں گریں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سوکھے ہوئے درخت میں آناً فاناً کھجوریں پیدا کردیں تو یہ بھی ہوسکتا تھا کہ حضرت مریم کے ہلائے بغیر وہ کھجوریں گر جاتیں لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ بندہ اپنے لئے رزق کی تلاش میں سعی اور جدوجہد کرے۔ جو کام بندہ کی قدرت میں نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ کردیتا ہے لیکن جو کام بندہ کرسکتا ہے وہ اس کو کرنا پڑتا ہے۔ زمین سے پیداوار کے حصول میں ہل چلا کر زمین کو نرم کرنے اور اس میں بیج ڈالنے اور پانی دینے کی ضرورت ہے۔ سورج کی حرارت، بارش اور ہوائوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے سورج کی حرارت، ہوائوں کو بھیجنا اور بارش برسانا انسان کی قدرت میں نہیں یہ کام اللہ تعالیٰ کردیتا ہے لیکن زمین کو ہل چلا کر نرم کرنا اور پانی دینا انسان کی قدرت میں ہے تو یہ کام اس کو کرنے ہوں گے۔ اسی طرح اس سوکھے ہوئے درخت میں تازہ پکی ہوئی کھجوریں آناً فاناً پیدا کردینا حضرت مریم کے اختیار میں نہ تھا وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کردیں، لیکن درخت ہلا کر کھجوریں گرانا تو ان کے اختیار میں تھا سو وہ کام ان کو کرنا پڑا۔

اسی طرح رزق کی تلاش میں سعی اور جدوجہد کرنا بندوں کے اختیار میں ہے تو وہ ان پر کرنا لازم ہے اور یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔

علامہ ابن العربی نے کہا پہلے ان کے پاس خودبخود بےموسمی پھل آتے تھے اور اب ان کو درخت کے ہلانے کا حکم دیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ان کا دل اللہ کی یاد کے لئے فارغ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعضاء کو کام کرنے اور تھکنے سے فارغ رکھا اور جب ان کا دل اپنے بچہ کی حفاظت اس کی پر وشر اور اس کی دیکھ بھال کی طرف متوجہ ہوگیا تو ان کو بھی عام لوگوں کی طرح کسب اور اسباب کے حصول کی طرف متوجہ کردیا۔ بہرحال اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاش کو حاصل کرنے کے لئے کسب کرنا اور اسباب کا حصول ضروری ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 24