قرآنِ پاک کے آداب :

علماء ِکرام نے قرآنِ عظیم کے بہت سے آداب بیان کئے ہیں ،ان میں سے 6آداب یہ ہیں :

(1)…قرآن مجید کی کتابت نہایت خوش خط اور واضح حرفوں میں کی جائے، کاغذ بھی بہت اچھا، روشنائی بھی خوب اچھی ہو کہ دیکھنے والے کو بھلا معلوم ہو۔ بعض مکتبوں والے نہایت معمولی کاغذ پر بہت خراب کتابت و روشنائی سے چھپواتے ہیں یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ 

(2)…فی زمانہ قرآنِ مجید کے تراجم بھی چھاپنے کا رواج ہے، اگر ترجمہ صحیح ہو تو قرآنِ مجید کے ساتھ چھاپنے میں حرج نہیں ، اس لیے کہ اس سے آیت کا ترجمہ جاننے میں سہولت ہوتی ہے مگر تنہا ترجمہ طبع نہ کیا جائے۔

(3)…قرآنِ مجید کا حجم چھوٹا کرنا مکروہ ہے۔ مثلاً آج کل بعض مکتبوں والے تعویذی قرآنِ مجید چھپواتے ہیں جن کا قلم اتنا باریک ہے کہ پڑھنے میں بھی نہیں آتا، بلکہ گلے میں لٹکانے کے لئے بھی قرآنِ پاک نہ چھپوایا جائے کہ اس کا حجم بھی بہت کم ہوتا ہے۔

(4)…قرآنِ مجید پرانا بوسیدہ ہوگیا اور اس قابل نہ رہا کہ اس میں تلاوت کی جائے اور یہ اندیشہ ہے کہ اس کے اَوراق مُنتَشر ہو کر ضائع ہوں گے، توکسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کردیا جائے اور دفن کرنے میں اس کے لیے لَحد بنائی جائے، تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے یا اس پر تختہ لگا کر چھت بنا کر مٹی ڈالیں کہ اس پر مٹی نہ پڑے۔ مصحف شریف بوسیدہ ہوجائے تو اس کو جلایا نہ جائے۔

(5)…قرآن مجید کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے، نہ پاؤں پھیلائے جائیں ، نہ پاؤں کو اس سے اونچا کریں ، نہ یہ کہ خود اونچی جگہ پر ہواور قرآن مجید نیچے ہو۔

(6)…قرآن مجید کو جُزدان و غلاف میں رکھنا ادب ہے۔ صحابہ و تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے سے اس پر مسلمانوں کا عمل ہے۔ (بہار شریعت، حصہ شانزدہم،۳/۴۹۴-۴۹۶، ملخصاً)