أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَتۡ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِىۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا ۞

ترجمہ:

مریم نے کہا میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے ! حالانکہ کسی بشر نے مجھے چھوا تک نہیں اور نہ میں بدکار ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مریم نے کہا میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے ! حالانکہ کسی بشر نے مجھے چھوا تک نہیں اور نہ میں بدکار ہوں فرشتہ نے کہا اسی طرح ہوگا، آپ کے رب نے فرممایا ہے یہ مجھ پر آسمان ہے تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنادیں اور اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ (مریم 20-21)

عادت کے خلاف بیٹے کی پیدائش پر حضرت مریم کا تعجب فرمانا اور اس کا ازالہ 

جب حضرت جبریل نے حضرت مریم کو بشارت دی کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تم کو ایک پاکیزہ بیٹا دوں تو حضرت مریم کو تعجب ہوا کہ عادت کے خلاف بغیر نکاح اور بغیر شوہر کے ان کے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ! اس لئے انہوں نے کہا مجھ سے لڑکا کیسے ہوگا نہ تو کسی بشر نے مجھے مس کیا ہے یعنی نہ تو میرا نکاح ہوا ہے اور نہ میں بدکار ہں۔

حضرت جبریل نے کہا اسی طرح ہوگا آپ کے رب نے فرمایا ہے وہ مجھ پر آسان ہے، سورة ل آل عمرن میں ہے :

کدلک اللہ یخلق مایشآء اذا قضی امراً فانما یقول لہ کن فیکون (آل عمران :47) اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا ہوتا ہے، جب بھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے۔ وہ فرماتا ہے ” ہوجا “ سو وہ کام ہوجاتا ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی کام کے کرنے کے لئے مادہ اور آلات کی احتلاج نہیں ہوتی اور نہ اس کو کسی کام میں وقت لگتا ہے ادھر کس کام کا ارادہ کیا ادھر وہ وجود میں آگیا اور اللہ تعالیٰ اس لڑکے کی ولادت کو اپنے وجود اور اپنی قدرت کی نشانی اور اپنی رحمت بنانا چاہتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو بغیر باپ کے بیٹا پیدا کردے اور اس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے اور جس کام کا فیصلہ فرما بنانا چاہتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو پھر باپ کے بیٹا پیدا کر دے اور اس کام کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے اور جس کا وہ فیصلہ فرمانے اس کا ٹلنا محال ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 20