أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اِنِّىۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ؕ اٰتٰٮنِىَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِىۡ نَبِيًّا ۞

ترجمہ:

اس بچہ نے کہا بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس بچہ نے کہا بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہیے اور اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے خواہ میں کہیں بھی ہوں اور میں جب تک زندہ رہوں اس نے مجھے نماز اور زکواۃ کی وصیت کی ہے اور مجھے اپنی والدہ کے ساتھ نیکی کرنے والا بنایا ہے اور مججھے متکبر اور بدبخت نہیں بنایا (مریم :30-32)

حضرت عیسیٰ کا پیدا ہوتے ہی غالی نصاریٰ کا رد فرمانا 

جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سنا کہ وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس بچہ سے کیسے بات کریں جو ماں کی گود میں ہے تو انہوں نے ان کی طرف منہ کیا اور سیھے ہاتھ کی انگشت شہادت سے ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :

انی عبداللہ میں اللہ کا بندہ ہوں ! ان کے منہ سے سب سے پہلے جو بات نلکی وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اپنے بندہ ہونے کا اعتراف تھی اور اس میں ان لوگوں کا رد ہے جنہوں نے بعد میں ان کی شان میں غلو کیا، اور فرمایا اس نے مجھے کتاب دی ہے، ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی حال میں ان کو کتاب (انجیل) عطا فرما دی تھی اور اس کی فہم اور اس کا علم عطا فرما دیا تھا اور ان کو نبوت عطا فرما دی تھی۔ جس طرح حضرت آدم علیہ اسلام کو دفعتاً تمام اسماء کا علم دے دیا تھا اور وہ اسی زمنہ میں نماز پڑھتے تھے اور زکواۃ ادا کرتے تھے، لیکن یہ قول بہت ضعیف ہے اور صحیح یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ ازل میں ہی میرے متعلق یہ حکم کردیا گیا تھا کہ مجھے کتاب اور بنوت دی جائے گی اگرچہ اس وقت کتاب نالز نہیں کی گئی تھی۔

حضرت عیسیٰ کے مبارک ہونے کا معنی 

نیز فرمایا اور اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے یعنی مجھے دین کی دعوت دینے والا اور دین کی تعلیم دینے والا بنا کر بھیجا ہے، اور میرے اندر دین کے منافع رکھے ہیں، مجھے نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سیر وکنے والا، گمراہوں کو ہدیات دینے والا مظلوموں کی مدد کرنے والا اور ستم رسید ہ کی فریاد کو پہنچنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

برکت کا لغت میں معنی ہے کسی چیز کا ثابت اور برقرار رہنا یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے دین پر ثابت اور برقرار رکھا ہوے۔ نیز برکت کا معنی ہے زیادتی اور بلندی، گویا کہ آپ نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام احوال میں غالب، کامیاب اور سرخرو بنا کر بھیجا ہے، کیونکہ جب تک میں دنیا میں رہوں گا میں حجت اور دلیل کے اعتبار سے دوسروں پر غالب رہوں گا اور جب وقت معین آئے گا تو اللہ مجھے آسمانوں پر اٹھا لے گا، اور اس کا معنی ہے میں لوگوں کے حق میں مبارک ہوں، کیونکہ میری دعا کے سبب سے مردے زندہ ہوں گے اور مادرزاد اندھے اور کوڑھی تندرست ہوجائیں گے۔ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ آپ مردوں کو زندہ کر رہے تھے اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو تندرست کر رہے تھے تو ایک عورت نے آپ کو دیکھ کر کہا اس عورت کے لئے خوشی ہو جس نے آپ کو پیٹ میں رکھا اور آپ کو دودھ پلایا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا اس شخص کے لئے خوشی ہو جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی اور اس میں جو کچھ لکھا ہوا تھا اس پر عمل کیا اور اس نے تکبر اور شقاوت سے کام نہیں لیا اور یہ جو فرمایا میں جہاں کہیں بھی ہوں اس کا معنی یہ ہے کہ میرے اس حال میں اور میری اس صفت میں کوئی تغیر نہیں ہوگا میں جہاں کہیں بھی ہوں۔

حضرت عیسیٰ پر زکوۃ کی فرضیت کی تحقیق 

نیز فرمایا اور میں جب تک زندہ رہوں اس نے مجھے نماز اور زکوۃ کی وصیت کی ہے۔

امام رازی شافعی متوفی 606 ھ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ کو نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا کیسے حکم دیا گیا جب کہ اس وقت آپ دودھ پیتے بچے تھے اور بچوں سے قلم تکلیف اٹھا لیا گیا ہے کیونکہ حدیث میں ہے :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین آدمیوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے۔ بچے سے حتی کہ وہ بالغ ہوجائے سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ وہ بیدار ہوجائے اور مجنون سے حتی کہ وہ ت ندرست ہوجائے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :4402، مسند احمد ج ٦ ص 100 المستدرک ج ٢ ص 59، ج ٤ ص 389، سنن کبری للبیہقی ج ١ ص 56 مجمع الزوائد ج ٦ ص 251 مصنف ابن ابی شیبہ ج ٥ ص 268، مشکوۃ رقم الحدیث :3287، کنز العمال رقم الحدیث :10322)

اس سوال کے دو جواب ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ وصیت نہیں کی تھی کہ وہ اسی وقت نماز پڑھیں اور زکواۃ ادا کریں بلکہ یہ وصیت کی تھی کہ بالغ ہونے کے بعد جب نماز اور زکواۃ کا وقت آجائے تو دائما پابندی کے ساتھ نماز اور زکواۃ ادا کرتے رہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جیسے ہی حضرت عیسیٰ اپنی ماں کی گود سے الگ ہوئے ہوں تو اسی وقت وہ بالغ ہوگئے ہوں ان کی عقل کامل ہوگئی ہو اور ان کی خلقت اور جسامت جوانوں کی طرح مکمل ہوگئی ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم (آل عمران :59) بیشک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی طرح ہے۔ 

پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو دفعتاً تام الخلقت اور کامل پیدا کیا، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلا مکو بھی ماں کی گود سے الگ ہوتے ہی تام الخلقت اور کامل بنادیا اور یہ دوسرا قول مادمت حیا کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنی حیات کے تمام زمانوں میں نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کے مکلف ہوں۔ اگر اس پر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر ایسا ہوتا تو حضرت عیسیٰ کا کلام کرنا ان کے لئے باعث تعجب نہ ہوتا کیونکہ جو شخص بالغ ہو اور اس کی جسمانی ساخت کامل ہو اس کا کلام کرنا کب باعث حیرت ہوگا، مگر اس کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ ان کے کلام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی جسمانی حیثیت کو تمام و کمال تک پہنچایا ہو۔ (تفسیر کبیرج ٧ ص 535-536، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ )

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668: لکھتے ہیں :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب میں مکلف ہو جائوں گا اور نماز پڑھنے اور زکواۃ ادا کرنے پر قادر ہو جائوں گا تو تمام زندگی نماز پڑھتا رہوں گا اور زکواۃ ادا کرتا رہوں گا، یہی صحیح قول ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 30، مطبوعہ دارالفکر، بیروت 1415 ھ) 

علامہ عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

زکوۃ میں دو قول ہیں ابن سائب نے کہا اس سے مراد مال کی زکوۃ ہے اور زجاج نے کہا اس سے مراد بدن کی زکوۃ ہے یعنی پاکیزگی۔ (زاد المسیرجج ٥ ص 229، مطبوعہ متکب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ مجھے نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا تاکیداً حکم دیا ہے، اور بظاہر نماز سے مراد بدنی عبادت ہے اور زکواۃ سے مراد مالی عبادت ہے، جیسا کہ ان کا معروف معنی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ زکواۃ سے مراد صدقہ فطر ہے، اور ایک قول السلام پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا سے منزہ رکھا ہے، ان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کے لئے ہوتا ہے، اسی لئے ان کا کوئی وارث نہیں ہوتا اور یا اس لئے کہ زکوۃ مال کی تطہیر کے لئے ہوتی ہے اور ان کا کسب پہلے ہی طاہر ہوتا ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہو کہ آپ اپنی امت پر زکوۃ کو واجب کریں، لیکن یہ معنی ظاہر کے خلاف ہے اور اگر زکوۃ کو ظاہر اور معروف معنی پر محمول کیا جائے تو اس آیت کا یہ معنی ہوگا کہ اگر میں بقدر نصاب مال کا مالک ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مال کی زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا گیا ہے جب تک میں زندہ ہوں اس سے ظاہر اور متبادر یہ ہے کہ جب تک آپ اس متعارف دنیا میں زندہ ہیں اور یہ مدت اس زمانہ کو شامل نہیں ہے جب آپ آسمان میں ہیں۔ (روح المعانی جز 16 ص 130 مطبوعہ دارالفکر، بیروت 1417 ھ)

حضرت عیسیٰ کا اپنی والدہ کی برأت بیان کرنا 

حضرت عیسیٰ نے فرمایا، اور مجھے اپنی والدہ کے ساتھ نیکی کرنخے والا بنایا ہے اور مجھے متکبر اور بدبخت نہیں بنایا۔

اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ ان کی والدہ زنا کی تہمت سے بری ہیں کیونکہ اگر وہ زانیہ ہوتیں تو رسول معصوم کو ان کی تعظیم کا حکم نہ دیا جاتا۔ بار کا معنی ہے نیکی کرنے والا اور بر کا معنی ہے نیک، اس آیت میں حضرت عیسیٰ کو بار نہیں بلکہ بر فرمایا ہے یعنی وہ صرف نیکی کرنے والے نہیں ہیں بلکہ مجسم نیکی ہیں۔ نیز فرمایا وہ متکبر نہیں ہیں کیونکہ اگر وہ متکبر ہوتے تو اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والے نہ ہوتے اور اگر وہ متکبر ہوتے تو معصیت کرنے والے اور بدبخت ہوتے۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا جب میں چھوٹا تھا اس وقت بھی میرے دل میں نرمی تھی، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ جو شخص ماں باپ کا نافرمان ہوگا وہ متکبر اور بدبخت ہوگا پھر انہوں نے اس آیت کو پھڑا۔

ابن زید وغیرہ نے کہا ہے کہ جب ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کلام سن لای تو انہوں نے مان لیا کہ حضرت مریم پاک دامن ہیں اور اس تہمت سے بری ہیں۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بچپن میں یہ کلمات کہے تھے پھر وہ عام بچوں کی حالت کی طرف لوٹ گئے حتیٰ کہ جس طرح عام انسانوں کے بچے بتدریج نشو ونما پاتے ہیں اس طرح وہ بھی نشو و نما پاتے رہے۔ ان کا بچپن میں کلام کرنا اپنی ماں کی برأت کے لئے تھا یہ بات نہیں تھی کہ وہ اس حالت میں عقل و شعور رکھتے تھے اور ان کا ماں کی گود میں کلام کرنا ایسے تھا جیسے قیامت کے دن انسان کے اعضاء کلام کریں گے اور یہ منقول نہیں ہے کہ وہ مسلسل کلام کرتے رہے اور نہ یہ منقول ہے کہ وہ ایک دن کی عمر میں یا ایک ماہ کی عمر میں نماز پڑھتے تھے اور اگر وہ مسلسل باتیں کرتے رہتے اور تسبیح پڑھتے رہتے اور وعظ کرتے رہتے اور ولادت کے وقت سے لے کر نماز پڑھتے رہتے تو اس کی مثل چھپی نہ رہتی اور اس سے یہ قول باطل ہوجاتا ہے کہ وہ ماں کی گود سے الگ ہوتے ہی جوان ہوگئے تھے اور نمازیں پڑھنے لگے تھے۔

یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ نماز پڑھنا، زکوۃ ادا کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا گزشتہ امتوں پر بھی واجب تھا اور یہ احکام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی ثابت تھے اور کسی نبی کی شریعت میں منسوخ نہیں ہوئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بہت زیادہ تواضح کرنے والے تھے وہ درختوں کے پتے کھاتے تھے اور اون کا لباس پہننے تھے۔ زمین پر بیٹھ جاتے تھے اور جہاں رات آجاتی تھی وہیں رہ جاتے تھے اور آپ (علیہ السلام) کا کوئی مسکن نہیں تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١ ۃ ص 30، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 30