أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ مَرۡيَمَ‌ۘ اِذِ انْتَبَذَتۡ مِنۡ اَهۡلِهَا مَكَانًا شَرۡقِيًّا ۞

ترجمہ:

اس کتاب میں مریم کا ذکر کیجیے جب وہ اپنے گھر والوں سے دور مشرق میں ایک جگہ چلی گئیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس کتاب میں مریم کا ذکر کیجیے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے دور مشرق میں ایک جگہ چلی گئیں (مریم :16)

حضرت مریم کے مشرقی جگہ جانے کی وجوہ 

انتبذت کا لفظ نبذ سے بنا ہے اور نبذ کا معنی ہے پھینکنا، قرآن مجید میں ہے : فنبدوہ ورآء ظھورھم (آل عمران :187) انہوں نے اللہ کے عہد کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا۔

اسی سے بیع منابذہ نبی ہے یعنی مشتری کا منبع پر کنکر پھینکنا یعنی جس چیز پر وہ کنکر پھینکے گا اس چیز کی بیع واجب ہوجائے گی اور اس معنی کو دور ہونا لازم ہے اس وجہ سے انبذت من اھلھا کا معنی ہے وہ اپنے گھر سے دور چلی گیں اور گھر سے دور جانے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) جب انہوں نے حیض دیکھا تو وہ گھر سے دور کسی جگہ غسل کرنے گئیں تاکہ پاک ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، وہیں پر ان کے پاس حضرت جبریل آئے تھے۔ 

(٢) وہ تنہائی میں عبادت کرنے کے لئے کسی جگہ کی تلاش میں بیت المقدس کی مشرقی جانب گئی تھیں۔

(٣) ان کے خالو حضرت زکریا نے اپنے گھر میں ان کے لئے حجرہ بنادیا تھا، جب وہ گھر سے باہر جاتے تو اس کو بند کر جاتے تھے ان کی یہ خواہش تھی ان کی کوئی الگ جگہ ایسی ہو جہاں وہ آزادی سے آجا سکیں سو وہ بیت المقدس کی مشرقی جانب ایک جگہ چلی گئیں اور وہیں ان کے پاس حضرت جبریل آئے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 16