أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ‌ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔ سو تم اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت عیسیٰ نے کہا) اور بیشک اللہ میرا اور تمہار رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے پھر نصاریٰ کی جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں، پس کافروں کے لئے عذاب ہو اس عظیم دن میں پیش ہونے پر جس دن وہ ہمارے سامنے پیش ہوں گے تو کیسے سنتے ہوں گے اور کیسے دیکھتے ہوں گے ! لیکن ظالم آج کے دن کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں اور آپ انہیں حسرت والے دن سے ڈرایئے، جب فیصلہ ہوچکا ہوگا، اور وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لا رہے بیشک ہم ہی زمین اور ان کے وارث ہیں جو اس پر ہیں اور وہ سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے (مریم :36-40)

اللہ ہمارا رب ہے، اس کے تقاضے 

مریم :36 میں مذکور ہے اور بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے، اس پر یہ اشکال ہے کہ اس کلام کا قائل کون ہے، ظاہر ہے یوں تو نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے ! اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کلام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس کلام کے ساتھ متصل ہے بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے (الی قولہ) اور مجھے متکبر اور بدبخت نہیں بنایا، اس کے بعد فرمایا اور بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں پر یہ عبارت مقدر ہے ! اے محمد ! جب آپ نے دلائل سے واضح کردیا کہ عیسیٰ اللہ کے بندہ ہیں تو آپ کہئے اور بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔

اس آیت سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اس جہان کا مدبر اور اس کا نظام بنانے والا اور چلانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور نجومیوں کا یہ کہنا باطل ہے کہ کواکب اس جہان کے مدبر ہیں اور جب فلاں ستارہ فلاں ڈ برج میں ہوتا ہے تو اس کی یہ تاثیر ہوتی ہے اور جس کے نام کے عدد جس ستارے کے موافق ہوں اس پر اس کے اثرات مرتبہ وتے ہیں۔

اس آیت میں فرمایا ہے کہ بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو، یہاں عبادت کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا ذکر کیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی علت اس کا رب ہونا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے اور اس نے ہم پر ہر قسم کی نعمتیں انعام فرمائی ہیں اس نے ہم کو پیدا کیا اور ہمارے زندہ رہنے اور ہماری بقا کے اسباب پیدا کئے وہی ہماری پکار کو سنتا ہے اور ہمارا حاجت روا ہے، سو وہی ہماری عبادت کا مستحق ہے اسی وجہ سے حضرت ابراہیم نے آزر کو بتوں کی عبادت سے منع کیا تھا کہ جنہوں نے تم کو پیدا کیا نہ تم کو کوئی نعمت دی نہ تم سے کوئی مصیبت دور کی تم ان کی کیوں عبادت کرتے ہو !

لم تعبدمالا یسمع ولایبصرولا یغنی عنک شیئاً (مریم :42) آپ اس کی کیوں عبادت کر رہے ہیں جو نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے نہ آپ کو کسی چیز سے مستغنی کرسکتا ہے ! پس اس آیت سے معلوم ہوگیا کہ عبادت کا وہی مستحق ہے جس نے پیدا کیا اور تمام نعمتیں دی ہوں اور جو ایسا نہ ہو وہ عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا یہی صراط مستقیم ؎(سیدھا راستہ) ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور اس کے لئے اولاد اور بیوی کو نہ ماننا یہی سیدھا راستہ ہے۔

روز قیامت کے مشاہدہ کا عظیم ہونا 

آیت :37 میں فرمایا : پھر نصاریٰ کی جماعتیں اپٓس میں مختلف ہوگئیں، اس کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں :

(١) اس سے مراد نصاریٰ کے فرقے ہیں یعنی یعقوبیہ، نسطوریہ، اسرائیلیہ اور مسلمون۔

(٢) اس سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں جو ایک دوسرے کی تکذیب کرتے تھے۔

(٣) اس سے مراد کفار ہیں جن میں یہود اور نصاریٰ بھی داخل ہیں اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جو کافر تھے وہ بھی داخل ہیں۔

اس کے بعد فرمایا پس کافروں کے لئے عذاب ہو اس عظیم دن کے مشہد سے۔ مشہد کے معنی ہیں حاض رہونے کی جگہ یا جس سے شہادت متعلق ہو، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مشہد سے مراد ہو خود ان کا حساب کے لئے پیش ہونا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے اس سے مراد ہو روز قیامت کی جزاء یا میذان قیامت مراد ہو یا شہادت کا وقت مراد ہو اور شہادت سے انبیاء اور ملائکہ کی شہادت مراد ہے یا خود ان کی زبانوں، ان کے ہاتھوں اور ان کے پیروں کی ان کی بد اعمالیوں اور کفر پر شہادت مراد ہے، یا انہوں نے حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں کے متعلق جو شہادت دی تھی وہ مراد ہے۔ اس شہادت کو یا اس شہادت کے دن کو عظیم فرمایا ہے کیونکہ اس دن جو حساب و کتاب کا مشاہدہ کیا جائے گا اس سے بڑھ کر کوئی عظیم چیز نہیں ہے اور اس دن جو مسلمانوں کو ثواب ہوگا اس سے بڑھ کر نفع دینے والی کوئی چیز نہیں ہے اور اس دن جو کافر کو عذاب ہوگا اس سے بڑھ کر کوئی نقصان دہ چیز نہیں ہے۔

فعل تعجب کے صیغہ کا معنی اور اللہ تعالیٰ کے اظہار تعجب کی توجیہات 

آیت :38 میں فرمایا اسمع بھم وابصریوم یاتوننا، یہ دونوں فعل تعجب کے صیغے ہیں یعنی جب کافر قیامت کے دن ہمارے سامنے پیش ہوں گے تو کس قدر زیادہ سنتے ہوں گے اور کس قدر زیادہ دیکھتے ہوں گے، کلبی نے کہا جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائے گا کیا آپ نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو۔ (المائدہ :116) تو قیامت کے دن ان سے زیادہ کوئی سننے والا نہیں ہوگا اور نہ کوئی ان سے زیادہ دیکھنے والا ہوگا !

اسمع بھم وابصریہ دونوں صیغے اظہار تعجب کے لئے بولے جاتے ہیں یعنی وہ کس قدر زیادہ سنتے ہیں اور کس قدر زیادہ دیکھتے ہیں، تعجب کا معنی ہے کسی چیز کو بہت عظیم سمجھنا، جب کہ اس کے عظیم ہونے کا سبب معلوم نہ ہو یا اس کا سبب مخفی ہو اور کبھی اخفاء سبب کے بغیر بھی اظہار تعجب کیا جاتا ہے اور کسی عجیب و غریب چیز کے ادراک پر بھی حیرت اور تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس جگہ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ تعجب تو وہ شخص کرتا ہے جس کو کسی چیز کے عظیم یا غریب ہونے کا سبب معلوم نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کو تو ہر چیز کا علم ہے اور اس کے تعجب کرنے کی کیا توجیہ ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اظہار تعجب کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فعل صادر کیا ہے کہ اگر مخلوق میں سے کسی سے وہ فعل صادر ہوتا تو ان کے دلوں میں تعجب ہوتا، اور اسی تاویل سے اللہ تعالیٰ کی طرف مکر اور استہزاء کی نسبت ہے۔ اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ کفار دنیا میں ہمارا کلام سننے سے بہرے اور ہماری نشانیوں کو دیکھنے سے اندھے تھے اس کے باوجود جب وہ قیامت کے دن حساب کا عمل سننے اور دیکھنے کے لئے ہمارے پاس آئیں گے تو ان کا سننا اور دیکھنا اس لائق ہے کہ اس پر تعجب کیا جائے نہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر تعجب ہوگا اور اس کی تیسری توجیہ یہ ہے کہ اس میں وعید اور تہدید ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ عنقریب وہ اپنے متعلق ایسا فیصلہ سنیں گے جس سے ان کے دل دہل جائیں گے اور عنقریب یہ ایسا عذاب دیکھیں گے جس سے ان کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے اور اس کی چوتھی توجیہ یہ ہے کہ اسمع بھم و ابصر فعل تعجب کے صیغے نہیں ہیں بلکہ یہ حقیقت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امر اور حکم ہے کہ آپ ان کو اس عذاب کی وعید سنائیں اور دکھائیں جو قایمت کے دن ان کو دیا جائے گا تاکہ یہ ڈریں اور باز آئیں اور اس کی پانچویں توجیہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کو ان کا اخروی انجام سنئایں تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔

ائمہ نحو نے یہ کہا ہے کہ فعل تعجب کا صیغہ صورۃ امر ہے اور حقیقتاً خبر ہے اور اکرم بزید کا معنی یہ ہے کہ زید نے اس قدر زیادہ کرم کیا ہے کہ وہ مجسم کرم ہوگیا ہے۔

اس کے بعد فرمایا لیکن ظالم آج کے دن کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں اس کے دو محمل ہیں ایک یہ ہے کہ ظالم آج کے دن یعنی دنیا میں کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں اور قیامت کے دن ان کو حقیقت کا پتا چل جائے گا اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ ظالم جنت کے راستہ سے قیامت کے دن کھلی ہوئی گمرایہ میں ہوں گے یعنی ان کو جنت کا راستہ نہیں ملے گا اس کے برخلاف مومنین جنت کے راستہ پر جا رہے ہوں گے۔

روز قیامت کا یوم حسرت ہونا 

آیت :39 میں فرمایا اور آپ انہیں حسرت والے دن سے ڈرایئے جب فیصلہ ہوچکا ہوگا۔ اس آیت میں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنے زمانہ کے کافروں کو اس دن کے عذاب سے ڈرائیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ترک کرنے سے ڈریں اور یوم حسرت سے مراد قیامت کا دن ہے، کیونکہ کفار کو قیامت کے دن یہ علم ہوگا کہ ان کے لئے جنتیں بنائی گئی تھیں لیکن ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہ جنتیں مومنوں کو دے دی گئیں اور ان کو دوزخ میں ڈال دیا گیا پھر انہیں جنت کو دیکھ کر حسرت ہوگی۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب سب اہل دوزخ جنت میں اپنا گھر دیکھیں گے تو کہیں گے کاش اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ان کو حسرت ہوگی اور جب سب اہل جنت دوزخ میں اپنا ٹھکانا دیکھیں گے تو کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو دیکھنا ان کے لئے باعث شکر ہوگا اور ایک روایت میں ہے کوئی شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا مگر جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لے گا اگر وہ نیک کام کرتا تاکہ اس کو حسرت ہو، اور کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا مگر وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانا دیکھ لے گا اگر وہ برے کام کرتا تاکہ اس کا شکر زیادہ ہو۔ (مسند حمد ج ٢ ص 541، 512، مجمع الزوائد رقم الحدیث :18661، 18660 حافظ الہیثمی نے کہا پہلی روایت کے تمام رجال صحیح ہیں)

اس دن کا مصداق جب فیصلہ ہوچکا ہو گا 

نیز اس آیت میں ہے : جب فیصلہ ہوچکا ہوگا۔ اس کا ایک محمل یہ ہے کہ دنیا میں پوری تبلیغ ہوچکی ہوگی اور ثواب اور عذاب کے تمام دلائل بیان کئے جا چکے ہیں گے اور وہ غفلت میں پڑے رہے اور ایمان نہیں لائے اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ جب دنیا کو فنا کرنے اور مکلف کرنے کے سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہوگا اور اس کا تیسرا محمل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا کہ ” جب فیصلہ ہوچکا ہوگا “ تو آپ نے فرمایا :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : موت کو سرمئی مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا پھر ایک منادی یہ ندا کرے گا اے اھل جنت ! تو وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا تم اس کو پہنچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے اور وہ سب اس کو دیکھ لیں گے۔ پھر وہ ندا کرے گا اے اہل دوزخ ! تو وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے وہ کہے گا کیا تم اس کو پہچانتے ہو ! وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے اور وہ سب اس کو دیکھ لیں گے، پھر اس مینڈھے کو ذبح کردیا جائے گا پھر وہ منادی کہے گا : اے اہل جنتچ اب دوام ہے پس موت نہیں ہے اور کہے گا اے اہل دوزخ ! اب دوام ہے اور موت نہیں ہے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : وانذرھم یوم الحسرۃ اذقضی الامروھم فی غفلۃ (مریم 39) (صحیح البخاری رقم الحدیث، 4730، صحیح مسلم رقم الحدیث 2849، سنن الترمذی رقم الحدیث، 3156 السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :11316)

اللہ تعالیٰ پر وارث کے اطلاق کی توجیہ 

آیت :40 میں فرمایا بیشک ہم ہی زمین اور ان کے وارث ہیں جو اس پر ہیں اور وہ سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا اس دن کوئی مالک ہوگا نہ کوئی حاکم ہوگا، کسی کا کوئی ملک ہوگا نہ کوئی چیز کسی کی ملکیت ہوگی اور ہر چیز ظاہر اور باطن کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہوگی۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم ہی وارث ہیں، وارث اس کو کہتے ہیں جو مرنے والے کے ترکہ کا پہلے مالک نہیں ہوتا اس کے مرنے کے بعد مالک ہوتا ہے اور مورث کی ملکیت وارث کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کا ہمیشہ سے مالک ہے تو اس پر وارث کا اطلاق کیسے جائز ہو گاڈ اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقت میں ہر چیز کا اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے مالک ہے، لیکن ظاہر میں دنیا اور زمین کی بہت سی چیزوں کے لوگ مالک ہیں اگرچہ ان کی یہ ملکیت عارضی اور فانی ہے اور بعد والوں کی طرف منقتل ہوتی رہتی ہے، لیکن ظاہری اور مجازی طور پر ان کو زمین اور اس کی چیزوں کا مالک کہا جاتا ہے، لیکن قیامت آنے سے ان کی یہ ظاہری اور مجازی ملکیت بھی ختم ہوجائے گی اور ہر چیز کی ظاہری ملکیت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف منتقل ہوجائے گی سو اللہ تعالیٰ پر وارث کا اطلاق ظاہری ملکیت کے اعتبار سے ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 36