حدیث نمبر 303

روایت ہے حضرت ام درداء سے فرماتی ہیں ایک بار میرے پاس ابودرداء غصے میں آئے میں نے کہا آپ کو کس چیز نے غصہ دلایا فرمایا اﷲ کی قسم میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے کاموں میں سے صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ نماز جماعت سے پڑھ لیتے ہیں ۱؎(بخاری)

شرح

۱؎ ام الدرداء حضرت ابو الدرداء کی بیوی ہیں ان کا نام خیرہ ہے۔ ابوالدرداء نے اپنے شہر والوں کی ان سے شکایت کی، اسی شہر والوں نے مسلمانوں کے سارے کام چھوڑ دیئے یا بدل دیئے صرف نماز باجماعت باقی تھی،اب ان میں بھی سستی کرنے لگے۔خیال رہے کہ حضرت ابو الدرداء بڑے زاہد،تارک الدنیا،روزہ دار،شب بیدار صحابی تھے حتی کہ ام الدرداء نے بناؤ سنگار چھوڑ دیا تھا،حضرت سلمان فارسی کے پوچھنے پر کہا کہ میں سنگار کس لیے کروں میرے خاوند کو عبادت سے فرصت ہی نہیں جو میری طرف توجہ کریں،آپ چاہتے یہ تھے کہ سارے مسلمان مجھ جیسے عابد و زاہد ہوں،جس شہر میں آپ تھے وہاں کے باشندے اس درجے کے زاہد نہ تھے، اس کی آپ شکایت کررہے ہیں کہ یہ لوگ نہ راتوں کو جاگتے ہیں نہ اشراق وغیرہ کی پابندی کرتے ہیں ہاں جماعت کے پابند ہیں تو اس میں بھی کمی کرنے لگے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہ دین کی ساری باتیں چھوڑ چکے تھے جیسا کہ روافض نے اس حدیث سے سمجھا وہ زمانہ خیر القرون میں سے تھا، اس کی بہتری کی گواہی قرآن و حدیث دے رہے ہیں۔