وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ(۵۸)

اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انہیں (ف۱۴۴) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے(ف۱۴۵)

(ف144)

دیکھتے ہی ۔

(ف145)

کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈالنے سے اب تک چالیس سال کا طویل زمانہ گزر چکا تھا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال ہو چکا ہوگا اور یہاں آپ تختِ سلطنت پر شاہانہ لباس میں شوکت و شان کے ساتھ جلوہ فرما تھے ، اس لئے انہوں نے آپ کو نہ پہچانا اور آپ سے عبرانی زبان میں گفتگو کی ، آپ نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ۔ آ پ نے فرمایا تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے عرض کیا ہم شام کے رہنے والے ہیں ، جس مصیبت میں دنیا مبتلا ہے اسی میں ہم بھی ہیں ، آپ سے غلّہ خریدنے آئے ہیں ، آپ نے فرمایا کہیں تم جاسوس تو نہیں ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں ہم جاسوس نہیں ہیں ، ہم سب بھائی ہیں ، ایک باپ کی اولاد ہیں ، ہمارے والد بہت بزرگ معمّرصدیق ہیں اور ان کا نامِ نامی حضرت یعقوب ہے ، وہ اللہ کے نبی ہیں ۔ آپ نے فرمایا تم کتنے بھائی ہو ؟ کہنے لگے تھے تو ہم بارہ مگر ایک بھائی ہمارا ہمارے ساتھ جنگل گیا تھا ، ہلاک ہوگیا اور وہ والد صاحب کو ہم سب سے زیادہ پیارا تھا ، فرمایا اب تم کتنے ہو ؟ عرض کیا دس ، فرمایا گیارہواں کہاں ہے ؟ کہا وہ والد صاحب کے پاس ہے کیونکہ جو ہلاک ہو گیا وہ اسی کا حقیقی بھائی تھا اب والد صاحب کی اسی سے کچھ تسلّی ہوتی ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان بھائیوں کی بہت عزّت کی اور بہت خاطر و مدارات سے ان کی میزبانی فرمائی ۔

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْۚ-اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ(۵۹)

اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱۴۶) کیا اپنا سوتیلا بھائی (ف۱۴۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ماپتا ہوں (ف۱۴۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں

(ف146)

ہر ایک کا اونٹ بھر دیا اور زادِ سفر دے دیا ۔

(ف147)

یعنی بنیامین ۔

(ف148)

اس کو لے آؤ گے تو ایک اونٹ غلّہ اس کے حصّہ کا اور زیادہ دوں گا ۔

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ(۶۰)

پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں ماپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ(۶۱)

بولے ہم اس کی خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہمیں یہ ضرور کرنا

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۶۲)

اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خُرجِیوں(تھیلوں) میں رکھ دو (ف۱۴۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں

(ف149)

جو انہوں نے قیمت میں دی تھی تاکہ جب وہ اپنا سامان کھولیں تو اپنی پونجی انہیں مل جائے اور قحط کے زمانہ میں کام آئے اور مخفی طور پر ان کے پاس پہنچے تاکہ انہیں لینے میں شرم بھی نہ آئے اور یہ کرم و احسان دوبارہ آنے کے لئے ان کی رغبت کا باعث بھی ہو ۔

(ف150)

اور اس کا واپس کرنا ضروری سمجھیں ۔

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۶۳)

پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلّہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلّہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے

(ف151)

اور بادشاہ کے حسنِ سلوک اور اس کے احسان کا ذکر کیا ، کہا کہ اس نے ہماری وہ عزّت و تکریم کی کہ اگر آپ کی اولاد میں سے کوئی ہوتا تو وہ بھی ایسا نہ کر سکتا ، فرمایا اب اگر تم بادشاہِ مِصر کے پاس جاؤ تو میری طرف سے سلام پہنچانا اور کہنا کہ ہمارے والد تیرے حق میں تیرے اس سلوک کی وجہ سے دعا کرتے ہیں ۔

(ف152)

اگر آپ ہمارے بھائی بنیامین کو نہ بھیجیں گے تو غلّہ نہ ملے گا ۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُؕ-فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا۪-وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(۶۴)

کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان

(ف153)

اس وقت بھی تم نے حفاظت کا ذمہ لیا تھا ۔

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْؕ-قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْؕ-هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَاۚ-وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍؕ-ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ(۶۵)

اور جب اُنہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے بولے اے ہمارے باپ اب ہم اور کیا چاہیں یہ ہے ہماری پونجی کہ ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بو جھ اور زیادہ پائیں یہ دینا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵۴)

(ف154)

کیونکہ اس نے اس سے زیادہ احسان کئے ہیں ۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْۚ-فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ(۶۶)

کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے اللہ کا یہ عہد نہ دے دو(ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آؤ گے مگر یہ کہ تم گھرجاؤ(مجبور ہو جاؤ)(ف۱۵۶) پھرجب انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو ہم کہہ رہے ہیں

(ف155)

یعنی اللہ کی قسم نہ کھاؤ ۔

(ف156)

اور اس کو لے کر آنا تمہاری طاقت سے باہر ہو جائے ۔

(ف157)

حضرت یعقوب علیہ السلام نے ۔

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍؕ-وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُۚ-وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ(۶۷)

اور کہا اور اے میرے بیٹو(ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروازوں سے جانا (ف۱۵۹) اورمیں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱۶۰) حکم تو سب اللہ ہی کا ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے

(ف158)

مِصر میں ۔

(ف159)

تاکہ نظرِ بد سے محفوظ رہو ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نظر حق ہے ۔ پہلی مرتبہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام نے یہ نہیں فرمایا تھا اس لئے کہ اس وقت تک کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ یہ سب بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہیں لیکن اب چونکہ جان چکے تھے اس لئے نظر ہو جانے کا احتمال تھا ، اس واسطے آپ نے علیٰحدہ علیٰحدہ ہو کر داخل ہونے کا حکم دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آفتوں اور مصیبتوں سے دفع کی تدبیر اور مناسب احتیاطیں انبیاء کا طریقہ ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے امر اللہ کو تفویض کر دیا کہ باوجود احتیاطوں کے توکّل و اعتماد اللہ پر ہے اپنی تدبیر پر بھروسہ نہیں ۔

(ف160)

یعنی جو مقدر ہے وہ تدبیر سے ٹالا نہیں جا سکتا ۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْؕ-مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَاؕ-وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۶۸)

اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱۶۱) وہ کچھ انہیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بےشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۶۲)

(ف161)

یعنی شہر کے مختلف دروازوں سے تو ان کا متفرق ہو کر داخل ہونا ۔

(ف162)

جو اللہ تعالٰی اپنے اصفیاء کو علم دیتا ہے ۔