بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج یوم عید پر بے انتہاٗ مصروفیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ایک مفصل تحریر لکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے لیکن مسئلہ ایسا تھا کہ کہ صرف نظر کرنا ناممکن تھا۔ قران مجید کی آخری سورہ الناس ایک دعاٗ کی طرز پر ہمیں رب العالمین نے عطاٗ فرمائی۔ اس سورہ مبارکہ میں فرمان ہے

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ،

یعنی ہمیں وسوسے ڈالنے والے اور سینوں میں چھپ کر وار کرنے والے شیاطین سے پناہ مانگنے کی تربیت فرامئی گئی۔

یہ وسوسہ ایسا خوفناک ہے کہ اگر دل میں قائم ہو جائے تو دولت ایمان تک کو لوٹ کر لے جاتا ہے۔ اس لیئے یہ شیطان کے ہتھیاروں میں مہلک ترین ہتھیار ہے۔ ہمارے ایمان کے دشمن شیاطین جب ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں تو سب سے مہلک ترین ہتھیار وسوسے کا ہی استعمال کرتے ہیں۔

کل کے دن ایک دین بیزار بدزبان اور بے لگام وزیر موصوف نے بھی یہی چال اتحاد امت کو پارہ پارہ کرنے کے لیئے چلی جس میں سوشل میڈیا بالخصوص ٹویئٹر پر کئی مشہور شخصیات نے قدم بہ قدم ساتھ دیا لیکن الحمد للہ عام عوام نے اس فتنہ انگیزی کو بھرپور میڈیا پروجیکشن کے باوجود مسترد کر دیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس وسوسے کا ازالہ انتہائی ضروری ہے۔

وزیر موصوف جن کا سائنس اور ٹیکنالوجی سے معمولی تعلق بھی نہیں ایک ناکام وکیل کے طور جن کی کل صلاحیت منہ سے جھاگ اڑاتے بدتمیزی اور گالیاں بکتے رہنا یا تماشہ لگانے کو افراد کو تھپڑ جڑتے رہنا ہے ساری زندگی سیاسی یتیمی اور خانہ بدوشی میں گذار دی نے ایک مفروضے “روئیت ہلال کمیٹی کی سائنس دشمنی” کی بنیاد پر سارے وہم اور وسوسے کی عمارت کھڑی کی بقول فیض احمد فیض

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے

سب سے پہلے تو یہ بات کہ بطور وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی جس کلینڈر کی ویب سائیٹ کو وہ اپنی ایسی کاوش سمجھ رہے ہیں کہ دنیا انگشت بدنداں رہ جائے گی وہ کلینڈر اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ بر صغیر میں دو ہزار سال سے بھی بیشتر معلوم ہے ۔ فلکیات کا اتنا علم کہ چاند کی پیدائش اس کے طلوع کا وقت کس موسم میں کیا ہوگا اس کا زاویہ کیا ہوگا وزیر موصوف اگر اپنے ہی علاقے سے چند کلو میٹر دور ابو ریحان البیرونی کی رصدگاہ (Observatory) کے بارے میں ہی جانتے ہوتے تو جس کلینڈر کو وہ اپنی عظیم کاوش سمجھتے ہوئے ہمخیال صحافیوں سے داد تحسین کے ڈونگرے وصول کر رہے تھے شرم سے پیش ہی نہ کرتے۔ کیونکہ یہ کلینڈر البیرونی اپنی تمام جزیات کے ساتھ قریب ہزار سال قبل فراہم کر چکے ہیں۔ اور جس ایپ کا تذکرہ وزیر موصوف کر رہے ہیں اس ٹیکنالوجی کو بھی استعمال ہوتے اب پچاس سال ہونے کو ہیں جی پی ایس GPSاور گلوناس GLONAS سے اب دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے لیکن شاید وزیر موصوف نے اپنے موبائل کا استعمال کسی فتنہ پردازی کے علاوہ شاید نہ کیا ہو تو وہ اس موبائل کی ایپ کے استعمال بتانے کو اپنی وزارت کا ایک عظیم کارنامہ سمجھ رہے ہیں۔

روئیت ہلال کمیٹی سے وزیر موصوف کی تکلیف سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر اور مسالک کیوں ایک مرکز پر اکٹھے ہیں۔ اصل تکلیف یہاں پر ہے وگرنہ روئیت ہلال کمیٹی نہ صرف سپارکو محکمہ موسمیات کے ماہرین اور نیوی کے اہلکاروں کی مدد لیتی ہے بلکہ یہ آئینی ادارہ تمام تر سائنسی آلات کے استعمال پر بھی یقین رکھتا ہے۔ اور انہی کی بنیاد پر روئیت کے مسئلے پر گواہی دینے والے پر جرح کی جاتی ہے۔

یہاں ہم قارئین کی اطلاع کے لیئے بتاتے چلیں کہ مسئلہ کس جگہ پر ہے جسے وزیر موصوف ایکسپلائٹ کر رہے ہیں دراصل قمری کلینڈرز اور یہ ایپس چاند کی پوزیشن پیدائش اس کے طلوع اور غروب بارے کافی حد تک قابل اعتماد ڈیٹا مہیا کرتی ہیں جسے استعمال بھی کیا جاتا ہے لیکن اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکے گا یا نہیں۔ آنکھ سے ہلال عید دیکھنا شرعی حکم ہے جسے وزیر موصوف کی خواہش پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ وزیر موصوف کی اس فتنہ انگیزی پر کئی صحافی دوستوں نے عظیم کارنامہ قرار دیا۔ اگر ہزاروں سال پرانے کلینڈر کی بنیاد پر ایک پریس کانفرنس صرف اس لیئے عظیم کارنامہ ہے کہ دینی طبقے کی تضحیک کا پہلو نکلتا ہو تو ہمیں پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مستقبل پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیئے جہاں ابھی ہم ہزاروں سال پرانی ایجاد پر اس لیئے جشن منا رہے ہیں کہ ہم نے اسے سمجھ لیا ہے۔

اللہ رب العالمین اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے ہمیں فتنوں اور وسوسوں سے پناہ عطاٗ فرمائے

۔۔

الشاہ اویس احمد نورانی

سیکرٹری جنرل جمعیت علماٗ پاکستان و ترجمان متحدہ مجلس عمل