حدیث نمبر 314

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کچھ پیچھے رہنا دیکھا ۱؎ تو فرمایا آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتداء کریں ۲؎ قومیں پیچھے رہتی رہیں گی حتی کہ اﷲ انہیں پیچھے کردے گا ۳؎(مسلم)

شرح

۱؎ نماز کی صفوں میں یا علم سیکھنے میں سستی،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں،یعنی صف اول میں آنے کی کوشش کم دیکھی ۔

۲؎ یعنی صف اول والے مجھے دیکھ کر نماز پڑھیں اور پچھلی صفوں والے اگلی صفوں کو دیکھ کر یا صحابہ براہ راست میری پیروی کریں اور تا قیامت مسلمان صحابہ کی۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام اسلام کی صف ہیں ہم لوگ پچھلی صفیں یا وہ حضرات ریل کا اگلا ڈبہ ہیں جو انجن سے ملا ہوا ہے اور ہم لوگ پچھلے ڈبے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے فیوض ہمیں صحابہ کے ذریعہ ملیں گے۔پتہ لگا کہ جو لوگ صحابہ کو مومن نہیں مانتے وہ خود بھی مومن نہیں کہ اگر ریل کا پہلا ڈبہ ہی منزل پر نہ پہنچا انجن سے کٹ گیا تو پچھلے ڈبے منزل پر کیسے پہنچ سکتے ہیں۔

۳؎ یعنی اگر مسلمان صف اول میں پہنچنے یا اور دینی کاموں میں سستی کریں گے تو ثواب رحمت رب کے فضل اور دخول جنت میں پیچھے رہیں گے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدالانبیاءہوکر ہر نیک کام میں سبقت کرتے تھے،رب تعالٰی فرماتا ہے:”فَاسْتَبِقُوا الْخَیۡرٰتِ”۔