أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ يٰۤـاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَ لَا يُغۡنِىۡ عَنۡكَ شَيۡـئًـا ۞

ترجمہ:

جب انہوں نے اپنے (عرقی) باپ سے کہا : اے میرے ابا ! آپ اس کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے، اور نہ آپ کے کسی کام آسکتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب انہوں نے اپنے (عرفی) باپ سے کہا : اے میرے ابا ! آپ اس کی کیوں بعادت کرتے ہیں جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ آپ کے کسی کام آسکتا ہے (مریم : ٤٢ )

بتوں کی عبادت کے بطلان کی وجوہ 

اس آیت میں بتوں کی عبادت کے باطل ہونے کو بیان فرمایا ہے اور اس کی تفصیل حسب ذیل ہے :

(١) عبادت سب سے زیادہ تعظیم کرنے کو کہتے ہیں اور سب سے زیادہ تعظیم کا وہی مستحق ہوگا جس نے سب سے زیادہ انعام کئے ہوں اور سب سے زیادہ انعام صرف اللہ تعالیٰ کے ہیں تو وہی عبادت کا مستحق ہے اور بتوں کا انسانوں پر کوئی انعام نہیں ہے تو بت کسی تعظیم کے مستحق نہیں ہیں۔

(٢) عبادت کا مغز دعا کرنا ہے اور جب بت دعا کو سن ہی نہیں سکتے تو ان کی عبادت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور جب وہ دیکھ نہیں سکتے تو ان کا تقرب حاصل کرنے میں کوئی منفعت نہیں ہے۔

(٤) عبادت کا مغز دعا کرنا ہے اور جب بت دعا کو سن ہی نہیں سکتے تو ان کی عبادت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور جب وہ دیکھ نہیں سکتے تو ان کا تقرب حاصل کرنے میں کوئی منفعت نہیں ہے۔

(٤) سننے والا، دیکھنے والا، نفع اور نقصان پہنچانے والا اس سے افضل ہے جو ان کاموں پر قادر نہ ہو، انسان میں سننے، دیکھنے، نفع اور نقصان پہنچانے کی صفات ہیں اور بوتوں میں یہ صفاتن ہیں ہیں لہٰذا انسان بتوں سے افضل اور اعلیٰ ہے، پھر افضل اور اعلیٰ کا گھٹیا اور ادنیٰ کی عبادت کرنا کیسے صحیح ہوگا ؟

(٥) جب بت خود اپنے آپ کو ٹوٹ پھوٹ اور نقصان سے نہیں بچا سکتے تو اپنی عبادت کرنے والوں کو نقصان اور ضرر سے کیسے بچا سکیں گے !

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منشا یہ تھا کہ اس کی عبادت کرنی چاہیے جو دعائوں کو سنتا ہو اور دعا کرنے والے کو دیکھتا ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

قال لا تخاف اننی معکما اسمع واری (طہ :46) فرمایا تم دونوں (موسیٰ اور ہارون) مت ڈرو میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں اور اس کی عبادت کرنی چاہیے جو کسی کام آسکے، کوئی حاجت پوری کرسکے، کوئی ضرر دور کرسکے اور کوئی نفع پہنچا سکے اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے :

امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوٓء و یجعلکم خلفآء الارض الہ مع اللہ قلیلاً ماتذکرون (النمل :61) جب بےب سے پکارتا ہے تو اس کی پکار کو کون سنتا ہے اور اس سے مصیبت کو کون دور کرتا ہے ؟ اور تمہیں زمین کا حاکم بناتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 42