آسمانی دین کی خصوصیت

آسمانی مذاہب کو چھوڑ کر غیر آسمانی مذاہب جتنے بھی ہیں ماخوذ مذاہب ہیں جس میں انسان کی اپنی عقل کو مکمل دخل ہے،جب بانی ہی انسان ہے اور اسکی عقل پر بنیاد ہے تو اس میں غلطی کا قوی امکان ہے،اس یئے کہ عقل ہمہ گیر نہیں،دنیا میں عقل کے نام پر ہزاروں رول بنے اور نقصان دیکھ کر بدل دئے گئے،ایک نے اپنی عقل سے کیا فیصلہ کیا دوسرے نے اپنی عقل سے کیا فیصلہ کیا،عقلیں متفاوت ہیں،جبکہ آسمانی مذاہب عقل کی پیداوار نہیں بلکہ وہ پروردگار کی چاہتوں کے ثمرات ہیں جہاں غلطی کا امکان ہی نہیں اور جہاں جھالت کا نام ہی نہیں،پہلے کے آسمانی مذاہب ایک وقت کا تقاضہ تھے،ایک وقت کی ضرورت تھے،انسانی ضروتوں کے اعتبار سے خدائی دستور العمل تھے،وہاں تحفظ کا ذمہ اللہ کے کرم خاص پر نہ تھا اس لئے مفاد پرستوں نے خدائی قانون میں مداخلت کی،یا تو اسے بدل کر اپنی چاہت کے مطابق بنا دیا،یا اس میں اپنی پسند کی قیود کا اضافہ کر دیا،اور دنیا کی نظر میں خدائی کلام کو مخلوط و مشکوک بنادیا،تو اللہ نے انسان کی قیامت تک کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایک ہمہ گیر دستور قرآن کے نام سے عطا فرمایا اور وانا لہ لحافظون اور بیشک ہمیں اسکے محافظ ہیں،فرما کر اس میں تبدیلی نہ ہو سکے گی اسکا اعتماد دلایا،اور آخری فرمان کے مطابق یہ اعلان کر دیا ومن یبتغ غیر السلام دینا فلن یقبل منہ،جو اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو چاہے گا تو اسکی طرف سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا،اور فرمایا الیوم اکملت لکم دینکم ورضیت لکم الاسلام دینا،آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل فرما دیا اور میں تمہارے لئے اسلام کے دیں ہونے پر راضی ہوگیا،بھلا جس دیں کی یہ شان ہے اور جس کے محفوظ ہونے پر اتنا قوی اعتماد ہے اسکا کہنا ہی کیا ؟پھر اسکے مقابلہ میں کس اور کی بات کو کیوں کر ترجیح دی جا سکتی ہے ؟