حدیث نمبر 310

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نماز کی تکبیر کہی گئی تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرۂ انور سے ہم پر توجہ فرمائی فرمایا کہ اپنی صفیں سیدھی کرو اور مل کر کھڑے ہو میں تمہیں اپنے پیچھے دیکھتا ہوں ۱؎(بخاری)اور مسلم بخاری میں ہے کہ فرمایا صفیں پوری کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت سے دیکھتا ہوں۔

شرح

۱؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ دیکھنے سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے۔ یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ کی آنکھ آگے پیچھے اور پس پردہ اندھیرے اجیالے میں یکساں دیکھتی ہیں۔حق یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ صرف نماز سے خاص نہیں تھا نہ حیات شریف سے۔وہ حدیث کہ میں دیوار کے پیچھے کی چیز نہیں جانتا بالکل بے اصل ہے جیسا کہ شیخ نے فرمایا اور اصلے نیست اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حضرت عیسی روح اﷲ فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم گھر میں کھا کر بچا کر آتے ہو میں بتاسکتا ہوں،یہ تو حبیب اﷲ کی آنکھ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔