حدیث نمبر 315

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہمیں حلقہ حلقہ دیکھا فرمایا کیا ہے میں تمہیں متفرق دیکھتا ہوں ۱؎ پھر ہم پر تشریف لائے تو فرمایا کہ ایسی صفیں کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے اپنے رب کے نزدیک بناتے ہیں ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ فرشتے رب کے نزدیک کیسے صفیں بناتے ہیں فرمایا اگلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی ہم مسجد میں الگ الگ حلقے بنائے بیٹھے تھے ہرشخص اپنے دوستوں کے ساتھ الگ حلقے میں تھا تب آپ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ مسجدوں میں یہ امتیازات مٹا دو، یہ واقعہ جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے پیش آیاتھا جیسا کہ باب الجمعہ میں آئے گا۔خیال رہے کہ عزین جمع عِزَّۃٌ کی ہے،بمعنی جماعت۔

۲؎ یعنی مسجد میں صفیں بنا کر بیٹھا کرو تاکہ تم فرشتوں کے مشابہ ہوجاؤ۔ خیال رہے کہ ملائکہ مقربین تو ہمیشہ سے صفیں باندھے رب کی عبادتیں کررہے ہیں اور مدبرات امر اپنی ڈیوٹیوں سے فارغ ہو کر صفیں بناکر عبادتیں کرتے ہیں،بعض زمیں پر، بعض آسمان پر،بعض عرش اعظم کے پاس جس کی تحقیق ان شاءاﷲ آیندہ کی جائے گی۔