أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جَنّٰتِ عَدۡنٍ اۨلَّتِىۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ‌ ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا ۞

ترجمہ:

ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ غیب سے وعدہ کیا ہے، بیشک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ غیب سے وعدہ کیا ہے، بیشک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے (مریم :61)

جنت اور جنتیوں کی صفات 

اس سے پہلے آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ نیک مسلمان جنت میں داخل ہوں گے اور اس آیت میں جنت کی صفات بیان فرمائی ہیں ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ جنات عدن ہیں، عدن کے معنی ہیں کسی شے کا دائمی ہونا یعنی وہ ایسے باغ ہیں جو ہمیشہ قائم رہیں گے اس کے برخلاف دنیا کے باغات دائمی نہیں ہوتے اور خزاں کے موسم میں ان کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور جنت ایسے باغات ہیں جن کے پتوں، پھلوں اور پھولوں میں کوئی غتیر نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ نے جنت کی دوسری صفت یہ ذکر فرمائی ہے کہ رحمٰن نے اس جنت کا اپنے بندوں کے ساتھ غیب سے وعدہ کیا اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ جنت ان بندوں سے غائب تھی، ان کے سامنے حاضر نہ تھی اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے وہ بندے اس جنت سے غائب تھے اور اس کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے اور اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ رحمٰن نے ان بندوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے جو غیب میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ یعنی تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں منافقین کی طرح نہیں ہیں جو صرف لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 61