أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا فَاعۡبُدۡهُ وَاصۡطَبِرۡ لِـعِبَادَتِهٖ‌ؕ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهٗ سَمِيًّا۞

ترجمہ:

آسمانوں کا اور زمینوں کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا وہی رب ہے سو اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہو، کیا تم اس کے کسی ہم نام کو جانتے ہو ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آسمانوں کا اور زمینوں کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا وہی رب ہے سو اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہ، کیا تم اس کے کسی ہم نام کو جانتے ہو (مریم :65)

اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا نام اللہ نہیں ہے 

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کا مالک اور مربی ہے، وہی ان سب چیزوں کا خالق ہے، وہی اس کائنات کو بنانے والا اور اس کو چلانے والا ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے، سو تم سب اسی کی عبادت کرو، اور اس راہ میں اگر کچھ رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آئیں تو ان سے گھبرانا مت اور اگر نزول وحی میں تاخیر ہوجائے تو آپ اس سے آزردہ خاطر نہ ہوں اور دل جمعی سے پہلے کی طرح اس کی عبادت پر کمر بستہ رہیں اور اگر کفار طعنے دیں تو ان کی پروا نہ کریں۔

اس آیت کے آخر میں فرمایا : کیا تم اس کے کسی ہم نام کو جانتے ہو ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا کیا تم اس کے کسی بیٹے کو جانتے ہو ؟ یا اس کی کسی نظیر یا اس کے کسی مثیل کو جانتے ہو، حضرت ابن عباس کا دوسرا قول یہ ہے کہ کیا تم کسی ایسے شخص کو جاتنے ہو جس کا نام رحمٰ نہو، بعض مفسرین نے کہا کیا تم کسی ایسے شخص کو جانتے ہو جس کا نام اللہ ہو، مشرکین اپنے بتوں کو الہ تو کہتے تھے لیکن انہوں نے اپنے کسی معبود یا کسی بت کا نام کبھی اللہ نہیں رکھا اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کائنات میں کسی کو کبھی اللہ نہیں کہا گیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 65