أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ‌ ؕ وَكُلًّا جَعَلۡنَا نَبِيًّا ۞

ترجمہ:

پھر جب ابراہیم ان سب سے الگ ہوگئے اور ان سے (بھی) جن کی وہ لوگ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے تو ہم نے ان کو اسحقٰ اور یعقوب عطا کئے اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب ابراہیم ان سے الگ ہوگئے اور ان سے (بھی) جن کی وہ لوگ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کئے اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت عطا کی اور ہم نے (دنیا میں) ان کا ذکر جمیل بلند کیا (مریم :49-50)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر جمیل کا جاری رہنا 

جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے کسی کو چھوڑتا ہے اس کو کوئی خسارہ نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی خاطر اپنے شہر اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑا تو ان کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دین میں نہ دنیا میں بلکہ اس ہجرت سے ان کو نفع ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی اولاد عطا فرمائی جن کو اللہ تعالیٰ نے مقام نبوت پر سرفراز فرمایا اور کسی بشر اور انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کیا سعادت اور فضیلت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کو مقام نبوت عطا فرمائے اور مخلوق پر اس کی اطاعت کو لازم کر دے اور آخرت میں اس کو اجر عظیم عطا فرمائے یہ اس کے لئے دنیا اور آخرت کی عظیم نعمتیں ہیں۔

نیز فرمایا ہم نے دنیا میں ان کا ذکر جمیل بلند کیا، اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو دعا کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا ہے، وہ دعا یہ ہے :

واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (الشعراء :84) اور بعد میں آنے والے لوگوں میں میرا ذکر جمیل جاری رکھ۔

سو تمام قوموں نے حضرت ابراہیم و اپنا مقتداء اور پیشوا مان لیا اور وہ ان کی طرف منسوب ہونے میں فخر کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیم کی پیروی کا حکم دیا، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قربانی سے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہیں۔ حج سارا کا سارا، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کی پیروی ہے، ہم آج تک ہر نماز میں حضرت ابراہیم پر بھیجی جانے والی صلاۃ کا ذکر کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 49