أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِىۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ‌ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ لَاَرۡجُمَنَّكَ‌ وَاهۡجُرۡنِىۡ مَلِيًّا ۞

ترجمہ:

اس نے کہا اے ابراہیم ! کیا تو میرے خدائوں سے اعراض کرنے والا ہے، اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھے چھوڑ دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس نے کہا اے ابراہیم ! کیا تو میرے خدا وئوں سے اعراض کرنے والا ہے، اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھے چھوڑ دے (مریم :46)

لارجمنک اور واھجرنی کے معنی 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے عرفی باپ کو توحید کی دعوت دی اور بتوں کی عبادت کے فساد اور بطلان پر دلائل قائم کئے اور اس کے ساتھ ساتھ نہایت نرمی اور ملائمت کے ساتھ ان کو سمجھایا، تو ان کے عرفی باپ آزر نے ان کی ہر بات کا جواب انتہائی سختی اور ناگواری کے ساتھ دیا اور ان کے دلائل کے مقابل ہمیں صرف اپنے آبائو اجداد کی تقلید پر اعتماد کیا۔

آزر نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا اگر تم باز نہ آئے تو میں تم کو رجم کر دوں گا اس آیت میں رجم کے حسب ذیل معنی بیان کئے گئے ہیں :

(١) اس سے رجم باللسان مراد ہے، یعنی گالیاں دینا اور مذمت کرنا۔ مجاہد نے کہا قرآن مجید میں جہاں بھی رجم کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ہے گالی دینا، تاہم اس کا عموم اور اطلاق محل نظر ہے۔

(٢) اس سے مراد ہے ہاتھوں سے مارنا یعنی میں لوگوں سے تمہاری شکایت کروں گا تو وہ تمہیں مار مار کر ادھ موا کریں گے یا اس سے مراد ہے میں پتھر مار مار کر تمہیں سنگسار کر دوں گا۔

(٣) لغت قریش میں اس کا معنی ہے میں تمہیں ہلاک کر دوں گا، ابو مسلم نے کہا کسی شخص کو بھگانے اور دور کرنے کے لئے بھی اس لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 46