أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَّا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَـغۡوًا اِلَّا سَلٰمًا‌ؕ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيۡهَا بُكۡرَةً وَّعَشِيًّا ۞

ترجمہ:

وہ جنت میں سلام کے سوا کوئی لغو بات نہیں سنیں گے، ان کے لئے اس میں صبح و شام ان کا رزق ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ جنت میں سلام کے سوا کوئی لغوبات نہیں سنیں گے، ان کے لئے اس میں صبح و شام ان کا رزق ہوگا (مریم :62)

لغو اس کلام کو کہتے ہیں جو فضول، بےمقصد اور بےفائدہ ہو، فحش باتوں کو بھی لغو کلام کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

اللہ تعالیٰ مومنین اہل کتاب کی صفات میں فرماتا ہے :

(القصص :55) اور جب وہ کوئی بےہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں تم کو سلام ہے ہم جاہلوں سے بحث کرنا نہیں چاہتے 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اپنے صاحب سے کہا چپ رہو تو تم نے لغو کام کیا : (صحیح البخاری رقم الحدیث :934 صحیح مسلم رقم الحدیث :851) اس آیت میں فرمایا ہے وہ اس میں صرف سلام سنیں گے اس سے مراد ہے جنتیوں کا ایک دوسرے کو سلام کرنا، یا فرشتوں کا ان کو سلام کرنا۔

قرآن مجید میں ہے۔

(الرعد :23-24) اور ان کے پاس ہر دروازہ سے فرشتے آئیں گے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم کو صبر کے بدلہ میں کیسا اچھا دار آخرت ملا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا سلام ہو۔ قرآن مجید میں ہے :

(یٰسین :58) پروردگار رحیم کی طر سے ان کو سلام کہا جائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 62