أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ اِسۡمٰعِيۡلَ‌ ۚاِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا‌ ۞

ترجمہ:

اور آپ اس کتاب میں اسماعیل کا ذکر کیجیے، وہ سچے وعدہ والے اور رسول نبی تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ اس کتاب میں اسماعیل کا ذکر کیجیے وہ سچے وعدہ والے اور رسول نبی تھے اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے (مریم :54-55)

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی صفات 

ان آیتوں میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی کئی صفات ذکر کی گئی ہیں جن کا بیان حسب ذیل ہے :

(١) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) صادق الوعد تھے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو، یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں وہ نہایت صادق تھے۔

(٢) وہ لوگوں سے جس بات کا وعدہ کرتے تھے اس کو پورا کرتے تھے، حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے ایک جگہ ملنے کا وعدہ کیا وہ وہاں پر نہیں آیا تو آپ نے ایک سال تک اس کا انتظار کیا۔ (تفسیر کبیرج ٧ ص 549)

عبداللہ بن ابی الحمساء بیان کرتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے کوئی چیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فروخت کی اور آپ کا کچھ بقایا میرے پاس رہ گیا میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں آپ کے پاس اسی جگہ آئوں گا پھر میں بھول گیا اور مجھجے تین دن بعد یاد آیا، میں آیا تو آپ اسی جگہ میرا انتظار فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا : اے شخص تم نے مجھے بہت مشکل میں ڈالا میں تین دن سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :4996)

(٣) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ رسول نبی ہیں، رسول نبی کی تفسیم ہم کرچکے ہیں حضرت اسماعیل قوم جرھم کی طرف رسول تھے۔

(٤) چوتھی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے۔ اہل سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جن کو تبلیغ کرنا ان پر واجب تھا تو اس میں ان کی امت بھی داخل ہے اور یہ اس صورت میں ہے جب نماز اور زکواۃ سے فرض نماز فرض زکوۃ کا ارادہ کیا جائے اور ایک قول یہ ہے کہ اہل سے مراد ان کے اہل خانہ ہیں اور وہ ان کو نفلی نمازوں اور نفلی صدقات ادا کرنے کا حکم دیتے تھے اور گھر والوں کا خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر فرمایا کہ انسان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے گھر والوں کی اصلاح کرے پھر اس کے بعد پورے ملک اور قوم کی اصلاح کرے۔ جیسا کہ حسب ذیل آیات سے ظاہر ہوتا ہے۔

وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء :214) وامر اھلک بالصلوۃ واصطبر علیھا (طہ 132) اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے۔ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے اور خود بھی اس پر جمے رہیں۔

یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم ناراً (التحریم :6) اے ایمان والو ! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔

(٥) اور پانچویں صفت یہ بیان فرمائی : کہ اللہ ان سے راضی ہے اور یہ سب سے اعلیٰ درجہ کی صفت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی سے راضی ہوتا ہے جو تمام عبادات میں اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکا ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 54