أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِبۡرٰهِيۡمَ ۚ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا۞

ترجمہ:

اور آپ اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کیجیے، بیشک وہ بہت سچے نبی تھے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کیجیے، بیشک وہ بہت سچے نبی تھے (مریم :41)

حضرت ابراہیم کا قصہ شروع کرنے کی وجوہ 

اس سورت سے مقصود ہے توحید، رسالت، قیامت اور حشر کو بیان کرنا اور منکرین توحید وہ تھے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور معبود کو مانتے تھے۔ پھر ان کے دو گروہ تھے، ایک گروہ زندہ انسان کو معبود مانتا تھا اور دوسرا گروہ پتھروں کے تراشیدہ بتوں کو خدا مانتا تھا، ہرچند کہ یہ دونوں گروہ گم راہ تھے لیکن دوسرا فریق زیادہ گم راہ تھا، پہلے اللہ تعالیٰ نے کم گم راہ فریق کا رد کیا اور اب اس کے بعد زیادہ گم راہ فریق کا رد شروع فرمایا۔

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کا قصہ بیان فرمایا تھا اور اب حضرت ابراہیم کا قصہ شروع فرمایا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سب کو معلوم تھا کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی قوم اور آپ کے صحابہ کتابوں کے مطالعہ، مدرسہ اور پڑھنے لکھنے سے شغف نہیں رکھتے تیھ، پھر جب آپ نے حضرت زکریا، حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم کے واقعات ٹھیک ٹھیک بیان کردیئے تو لامحالہ آپ نے غیب کی خبریں بیان کیں اور آپ کا غیب پر مطلع ہونا آپ کے نبی ہونے کی دلیل ہے اور خصوصاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا باپ کہتے تھے اور ان کے دین اور ان کی ملت کو برحق مانتے تھے قرآن مجید میں ہے :

ملۃ ابیکم ابراہیم (الحج :78) اپنے باپ ابراہمی کی ملت کو قائم رکھو۔ نیز عرب کہتے تھے :

بل قالوا انا وجدنا ابٓء نا علی امۃ وانا علی اثار ھم مھتدون (الزخرف : ٢٢) بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر چل کر ہدیات یافتہ ہوں گے۔

خلاصہ یہ ہے کہ تم حضرت ابراہیم کو اپنا باپ مانتے ہو اور تم اپنے باپ دادا کے دین کو برحق مانتے ہو تو تمہارے سامنے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے باپ ابراہیم کی ملت اور ان کا دین پیش کر رہے ہیں سو اس کو مانو اور قبول کرو۔

(٢) عرب کہتے تھے کہ ہمارے باپ دادا بت پرستی کرتے آئے تھے ہم ان کے طریقہ کو نہیں چھوڑ سکتے، اس کا رد فرمایا کہ حضرت ابراہیم کے عرفی باپ دادا بھی بت پرستی کرتے تھے لیکن انہوں نے اپنے عرفی باپ دادا کے طریقہ کو نہیں اپنایا بلکہ توحید کو مانا سو تم بھی حضرت ابراہیم کے نقش قدم پر چلو اور اگر باپ دادا کی اتباع کرنی ہے تو جو سب سے معظم اور مکرم باپ ہیں اور سب کے نزدیک مسلم ہیں ان کی اتباع کرو۔

(٣) اکثر کفار اپنے باپ دادا کی تقلید کا دعویٰ کرتے تھے ان کو بتایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ تقلید نہیں تھا بلکہ دلائل میں غور و فکر کر کے توحید کو اپنانا تھا سو تم بھی دلائل میں غور و فکر کر کے توحید کو اختیار کرو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 41