أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ مُوۡسٰٓى‌ ۚ اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا ۞

ترجمہ:

اور آپ اس کتاب میں موسیٰ کا ذکر کیجیے جو برگزیدہ تھے اور رسول نبی تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس کتاب میں موسیٰ کا ذکر کیجیے جو برگزیدہ تھے اور رسول نبی تھے ہم نے انہیں طور کی دائیں جانب سے ندا کی اور ہم نے انہیں قریب کر کے راز دار بنایا اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کو ان کے بھائی ہارون نبی عطا فرمائے (مریم 51-53)

نبی اور رسول کے لغوی اور اصطلاحی معنی 

آیت :51 میں مخلص کا لفظ ہے اور اس کی دو قراتیں ہیں لام کی زبر کے ساتھ اور لام کی زیر کے ساتھ۔ اگر لام کی زبر کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے برگزیدہ اور چنا ہوا اور اگر لام کی زیر کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے جو اخلصا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو یعنی اس میں ریا اور دکھاوا نہ ہو اور جب قرآن مجید میں ایسا لفظ ہو جس کی دو قراتیں ہوں تو دونوں کا معنی قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) برگزیدہ نبی بھی تھے اور صاحب اخلاص بھی تھے۔ نیز اس آیت میں فرمایا ہے وہ رسول نبی تھے، رسالت کا لغوی معنی ہے پیغام بھیجنا اور رسول کا معنی ہے بھیجا ہوا، اور نباء کا لغوی معنی ہے خبر دینا اور نبی کا لغوی معنی ہے اللہ کی طرف سے خبر دینے والا۔ (مختار الصحاح) نیز لکھا ہے : اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی بنا پر غیب کی باتیں بتانے والا پیشین گوئی کرنے والا، خدا تعالیٰ کے متعلق خبریں دینے والا (المسجد مترجم ص 987) اور نبی اور رسول دونوں کا اصطلاحی معنی ہے وہ انسان اور بشر جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کی تبلیغ کے لئے مخلوق کی طرف بھیجا ہو، اور ان دونوں میں یہ فرق بھی کیا جاتا ہے کہ نبی وہ انسان ہے جس پر وحی نازل کی گئی ہو عام ازیں کہ اس پر کتاب بھی نازل کی گئی ہو یا نہیں اور رسول وہ انسان ہے جس پر وحی بھی نازل کی گئی ہو اور اس پر کتاب بھی نازل کی گئی ہو، اس لئے حدیث میں ہے کہ تین سو تیرہ رسول ہیں اور ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی ہیں (حلیۃ الاولیاء ج ١ ص 167) مسند احمد کی روایت میں ہے تین سو پندرہ رسول ہیں۔ (مسند احمد ج ٥ ص 266)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 51